Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Kitab e Zindagi
Kitab e Zindagi

فتح بغیر جنگ

Urdu · 7 min

مسٹر رچرڈنکسن1968ء سے1974ء تک امریکہ کے پریذیڈنٹ تھے۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے—1999ء، جنگ کے بغیر فتح:

Richard Nixon,1999: Victory Without War

اس کتاب میں جو باتیں کہی گئی ہیں، ان میں سے ایک بات امریکہ اور جاپان کے باہمی تعلق کے بارے میں ہے۔ اس سلسلہ میں مسٹر نکسن نے جو باتیں لکھی ہیں، ان میں سے ایک بات مختصر طور پر یہ ہے:

The Americans decimated Japan in 1945 and, after World War II, rebuilt it with enormous economic backing as a model country to disprove the communist ideology that poverty cannot be removed through the process of capitalism. Democracy was planted on its territory in place of the ancient monarchy. Its constitution was written by the Americans. Its defence was controlled from Washington, DC. After 35 years of this experiment, bitter economic disagreements have clouded US–Japan relations in recent years. There is a severe trade imbalance. In 1986, Japan sold goods to the US to the value of $60 billion in excess of the goods purchased from the States, contributing to the total American trade deficit of $170 billion. Indigenous rice production costs Japan $2,000 a ton, yet it is not prepared to buy rice from its benefactor, the US, offered at $180 a ton, with a view “to protect Japanese farmers.” The US is sore that the “Japanese have closed their markets to American goods.” (p.2)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

امریکیوں نے 1945ء میں جاپان پر ایٹم بم سے حملہ کرکے اس کے بڑے حصہ کو تباہ کر دیا۔ پھر دوسری عالمی جنگ کے بعد انہوں نے زبردست اقتصادی امداد کے ذریعہ جاپان کی دوبارہ تعمیر کی۔ جاپان کے ساتھ یہ معاملہ انہوں نے اپنے ذاتی مقصد کے لیے، ایک نمونہ کے ملک کے طور پر کیا۔ اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ اس اشتراکی نظریہ کو غلط ثابت کر سکیں کہ غریبی کو سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ختم نہیں کیا جا سکتا۔

چنانچہ جاپان میں قدیم بادشاہت کی جگہ جمہوریت لائی گئی۔ امریکیوں نے خود وہاں کا دستور لکھ کر تیار کیا۔ اس کا دفاع مکمل طور پر واشنگٹن کے تحت کر دیا گیا۔

اس تجربہ کے 35 سال بعد تلخ اقتصادی اختلافات کے بادل امریکہ اور جاپان کے تعلقات پر چھا گئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی توازن ہولناک حد تک بگڑ گیا۔1986ء میں امریکہ نے جتنا سامان جاپان کے ہاتھ بیچا، اس کے مقابلہ میں جاپان نے ساٹھ بلین ڈالر کے بقدر زیادہ سامان امریکہ کے ہاتھ فروخت کیا۔ واضح ہو کہ اس سال امریکہ کا کل تجارتی خسارہ170 بلین ڈالر تھا۔ جاپان اس پوزیشن میں ہو چکا ہے کہ اس نے امریکی چاول کی خریداری کے لیے 180 ڈالر فی ٹن کی پیش کش کو رد کر دیا جب کہ اسے اپنے ملک میں چاول پیدا کرنے کے لیے2000 ڈالر فی ٹن خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اب امریکہ کو یہ شکایت ہے کہ جاپانیوں نے امریکی سامان کے لیے اپنی مارکیٹ کو بند کر دیا ہے۔(ٹائمس آف انڈیا2 اپریل 1989ء)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کی حیثیت فاتح اور غالب کی تھی، اور جاپان کی حیثیت مفتوح اور مغلوب کی۔ مگر فاتح نے جو اقدامات اپنے مفاد کے لیے کیے، اس کو مفتوح نے اپنے مفاد میں تبدیل کر لیا۔ یہی موجودہ دنیا کا امتحان ہے۔ اس دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو دشمن کے مخالفانہ منصوبوں میں اپنے لیے موافق پہلو تلاش کر لیں جو دشمن کی تدبیروں کو اپنے لیے زینہ بنا کر آگے بڑھ جائیں۔

اس دنیا میں شکست بھی فتح کا دروازہ کھولتی ہے۔ یہاں جنگ کے بغیر بھی کامیاب مقابلہ کیا جاتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ دانش مندوں کے لیے ہے۔ نادانوں کے لیے خدا کی اس دنیا میں کوئی بھی حقیقی کامیابی مقدر نہیں۔ ان کے لیے فتح بھی شکست ہے، اور شکست بھی شکست۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content