Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Kitab e Zindagi
Kitab e Zindagi

احساس اصلاح

Urdu · 2 min read

احساسِ اصلاح

ایک مسلم نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ کتابت کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں الرسالہ پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں۔ مجھ کو الرسالہ بہت پسند ہے۔ مگر آپ کی ایک بات مجھے کھٹکتی ہے۔ آپ اکثر مسلمانوں کی کمیوں کا ذکر کرتے ہیں اس سے تو مسلمانوں میں احساس کمتری پیدا ہو جائے گا۔

میں نے کہاکہ آپ ایک کاتب ہیں۔ فرض کیجیے کہ آپ حرف ’ج‘ اور ’ع‘ کا دائرہ صحیح نہ بناتے ہوں۔ اب اگر آپ کے استاد آپ کی اس کمی کو بتائیں تو کیا آپ کہیں گے کہ استاد صاحب میرے اندر احساس کمتری پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ اسی ذاتی مثال سے آپ الرسالہ کے اُن مضامین کو سمجھ سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان مضامین کا مقصد مسلمانوں میں احساس کمتری پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ احساسِ اصلاح پیدا کرنا ہے اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ اپنی کمیوں کی اصلاح کیے بغیر کوئی شخص یا گروہ اس دنیا میں ترقی نہیں کر سکتا۔

عربی کا ایک مثل ہے کہ جو شخص تم کو نصیحت کرے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہاری تعریف کرے (من ھو ناصحک خیر لک ممن ھو مادحک) ۔یہ مثل صد فیصد درست ہے۔ ہر وہ شخص جو کسی کے ساتھ خیر خواہی رکھتا ہو، وہ یہی کرے گا کہ وہ اس کی کمیوں کی نشاندہی کرے گا اور اس کی کوتاہیوں پر اس کی فہمائش کرے گا۔ یہی سچے مصلح کا طریقہ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن میں گھاٹے (خُسر) سے بچنے کے لیے جو لازمی صفات بتائی گئی ہیں، ان میں سے ایک ضروری صفت تواصی الحق اور تواصی بالصبر ہے۔ یعنی آپس میں ایک دوسرے کو حق و صبر کی نصیحت کرتے رہنا۔ وہی گروہ اس دنیا میں نقصان اوربربادی سے بچ سکتا ہے جس کے افراد میں یہ روح زندہ ہو کہ جب وہ اپنے بھائی کو حق کے راستہ سے ہٹا ہوا پائے تو فوراً اس کو ٹوکے، اور جب بھی وہ اس کو بے صبری کی طرف جاتا ہوا دیکھے تو اس کو صبر کی اہمیت سے آگاہ کرے (سورہ العصر) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صحابۂ کرام کے اندر نصیحت کرنے کا جذبہ بھی پوری طرح موجود تھا اور نصیحت سننے کا بھی۔ حضرت عمر فاروقؓ نے ایک معاملہ میں ایک بار فیصلہ دیا۔ حضرت علی کو اس فیصلہ میں غلطی نظر آئی۔ انہوں نے اس پر ٹوکا۔ حضرت عمرؓ اگرچہ خلیفہ اور حاکم تھے، انہوں نے فوراً اس کو مان لیا اور کہا: اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا(لولا عليّ لهلك عمر) الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جلد3، صفحہ1103۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content