Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitab e Zindagi
Kitab e Zindagi

انسانی عظمت

Urdu · 4 min

مشہور نظریاتی سائنٹسٹ اسٹیفن ہاکنگ (1942-2018ء)کا واقعہ ہے۔ ایم ایس سی کرنے کے بعد وہ پی ایچ ڈی کے لیے ریسرچ کر رہا تھا کہ اس پر ایک خطرناک بیماری کا حملہ ہوا۔ اپنے حالات کے ذیل میں اس نے لکھا ہے کہ میں ریسرچ کا ایک طالب علم تھا۔ میں مایوسانہ طور پر ایک ایسے مسئلہ کے حل کا منتظر تھا جس کے ساتھ مجھے پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کرنا تھا۔ دو سال پہلے ڈاکٹروں نے تشخیص کیا تھاکہ مجھے ایک مہلک بیماری ہو چکی ہے۔ مجھےبتایا گیا تھا کہ میرے پاس اب زندہ رہنے کے لیے صرف ایک سال یا دو سال اور ہیں۔ ان حالات میں بظاہر میرے لیے پی ایچ ڈی پر کام کرنے کا زیادہ وقت نہیں تھا۔ کیوں کہ میں اتنی مدت تک زندہ رہنے کی امید نہیںکر سکتا۔ مگر دو سال گزرنے پر بھی میرا حال زیادہ خراب نہیں ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ واقعات میرے لیے زیادہ بہتر ہوتے جا رہے تھے:

I was a research student desperately looking for a problem with which to complete my Ph.D thesis. Two years before I had been diagonsed as suffering from ALS, commonly known as Lou Gehrig's disease, or motor neuron disease, and given to understand that I had only one or two more years to live .In these circumstances there had not seemed much point in working on my Ph.D. I did not expect to survive that long. Yet two years had gone by and I was not that much worse. In fact, things were going rather well for me. (Stephen W. Hawking, A Brief History of Times, P.53.)

other sourceWords of another person or source

ڈاکٹروں کے اندازہ کے خلاف اسٹیفن ہاکنگ زندہ رہا۔ اس نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ اس نے اپنی محنت سے اتنی لیاقت پیداکی کہ کہا جاتا ہے کہ وہ آئن اسٹائن کے بعد سب سے بڑا نظریاتی طبیعیات دان ہے۔ آج وہ کیمبرج یونیورسٹی میں میتھمیٹکس کا پروفیسر ہے۔ یہ وہ کرسی ہے جو اب تک صرف ممتاز سائنس دانوں کو دی جاتی رہی ہے۔ اس کی صرف ایک کتاب ،اے بریف ہسٹری آف ٹائم1988ء میں چھپی تو وہ اتنی مقبول ہوئی کہ پہلے ہی سال اس کے چودہ ایڈیشن شائع کیے گئے۔

انسان کی ذہنی صلاحیتیں اس کی ہر کمزوری کی تلافی ہیں۔ اس کا ارادہ ہر قسم کی رکاوٹوں پر غالب آتا ہے۔ وہ ہر ناکامی کے بعد ا پنے لیے کامیابی کا نیا راستہ نکال لیتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content