Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Kitab e Zindagi
Kitab e Zindagi

چرچل کا اقرار

Urdu · 2 min read

سرونسٹن چرچل (1874-1965) انگلستان کے انتہائی مشہور سیاستدان تھے۔ وہ 1940 سے 1945تک برطانیہ کے وزیر اعظم رہے۔ ان کے متعلق مورخین مغرب یہ الفاظ لکھتے ہیں کہ انہوں نے دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کو شکست سے بچا کر فتح تک پہنچایا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

He lead Britain from near defeat to victory in Word War II

چرچل جنگ کے رہنما تھے، وہ امن کے رہنمانہ تھے۔ برطانیہ کے لوگوں کا یہ سیاسی شعور قابلِ داد ہے کہ جنگ عظیم کے فوراً بعد برطانیہ میں عام الیکشن ہوا تو انہوں نے اپنے جنگی ہیرو کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ کیوں کہ جنگ کے بعد برطانیہ کی تعمیرنو کے لیے وہ چرچل کو موزوں نہیں سمجھتے تھے۔

چرچل کے اندر بڑی عجیب و غریب خصوصیات تھیں۔ ان کی ایک خصوصیت کا ذکر مسز وجے لکشمی پنڈت نے اپنی سوانح عمری میں اس طرح کیا ہے—

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہندوستان کے مطالبہ آزادی کے جواب میں چرچل نے اعلان کیا تھاکہ وہ سلطنت برطانیہ کے وزیراعظم اس لیے نہیں بنے ہیں کہ وہ اس کے خاتمہ کی تقریب کی صدارت کریں۔ یہ بات قابل تعجب نہیں ہے کہ ہم لوگ ان سے محبت نہیں کرتے تھے ۔ جو چیز قابل تعجب ہے وہ یہ کہ آخر میں جب وہ میرے بھائی (جواہر لال نہرو) سے اس وقت ملے جب کہ عبوری حکومت بن چکی تھی تو دونوں نے ایک دوسرے کو چاہا اور دونوں میں آزادانہ گفتگو ہوئی۔ جب وہ جُدا ہوئے تو چرچل نے جواہرلال کو یہ کہہ کر مبارک باد دی کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے انسان کے دو سب سے بڑے دشمنوں پر فتح پائی ہے۔ وہ ہیں نفرت اور خوف:

unverifiedAttribution could not be verified automatically

He was the man who had announced that he had'not become His Majesty's first minister to preside over the liquidation of His Majesty's empire'. It was not surprising that we did not love him. What was surprising was that when he finally met by brother after the formation of the interim government, they liked each other and were able to talk freely. When they parted, Sir Winston paid Bhai a handsome tribute:'' I want to say that you have conquered two of man's greatest enemies---hate and fear.''

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Vijaya Lakshmi Pandit, The Scope of Happiness: a Personal Memoir, 1979, p. 283

other sourceWords of another person or source
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content