Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitab e Zindagi
Kitab e Zindagi

اختیار اور بے اختیاری

Urdu · 4 min

مشہور سائنس دان آئن سٹائن نے طبیعیاتی دنیا کے ایک اصول کو اس طرح بیان کیا ہے— توانائی نہ پیدا کی جا سکتی اورنہ ختم کی جاسکتی:

other sourceWords of another person or source

energy can neither be created nor destroyed.

یہ واقعہ خالق کی قدرت کاملہ کا ثبوت ہے۔ انسان موجودہ دنیا کو صرف استعمال کر سکتا ہے۔ وہ اس کو بدلنے یا اس کو مٹانے پر قادر نہیں۔ اسی سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کی حیثیت کیا ہے۔ انسان اس دنیامیں مالک کی حیثیت سے نہیں ہے بلکہ صرف تابع کی حیثیت سے ہے۔ اسی صورت حال کو مذہب کی اصطلاح میں امتحان کہا جاتاہے۔ انسان اس دنیا میں صرف اس لیے آتا ہے تاکہ وہ محدود مدت میں یہاں رہ کر اپنے امتحان کا پرچہ پورا کرے۔ اس کے بعد وہ یہاںسے چلا جائے گا۔ اس سے زیادہ کسی اور چیز کا اس کو مطلق اختیارنہیں۔

بعض انسان دنیا کے حالات سے مایوس ہو کر خودکشی کر لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو ختم یا معدوم کر رہے ہیں، مگر ایسا ہونا ممکن نہیں۔ جس طرح دنیاکی اس توانائی کو مٹایا نہیں جا سکتا جو مادہ کے روپ میں ظاہر ہوئی ہے۔ اسی طرح یہاں اس توانائی کو مٹانا بھی ممکن نہیں جو انسان کی صورت میں متشکل ہوتی ہے۔ انسان کے اختیار میں خودکشی ہے، مگر انسان کے اختیار میں معدومیت نہیں۔ یہ صورت حال علامتی طور پر بتاتی ہے کہ انسان کا معاملہ اس دنیا میں کیا ہے۔

انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ حقیقت واقعہ کا انکار کردے۔ مگر حقیقت واقعہ کو بدلنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ انسان کو یہ اختیار ہے کہ وہ سرکشی کرے مگر سرکشی کے انجام سے اپنے آپ کو بچانا اس کے لیے ممکن نہیں۔ انسان کو اختیار ہے کہ وہ اخلاقی پابندی کو قبول نہ کرے مگر اخلاق کی مطلوبیت کو کائنات سے حذف کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ انسان کو یہ اختیار ہے کہ وہ جو چاہے کرے مگر اس کو یہ اختیار نہیں کہ اپنے چاہنے ہی کو وہ اس معیاری اصول کی حیثیت دے دے جس کے مطابق بالآخر تمام انسانوں کا فیصلہ کیا جانے والا ہے— انسان اس دنیا میں آزاد ہے، مگر اس کی آزادی محدود ہے ، نہ کہ لامحدود۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content