Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Kitab e Zindagi
Kitab e Zindagi

ابتدائیہ

Urdu · 8 min

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ديباچه

انسان کے سوا جو کائنات ہے وہ نہایت محکم قوانین پر چل رہی ہے۔ کائنات کی ہرچیز کا ایک مقرر ضابطہ ہے۔ وہ ہمیشہ اسی ضابطہ کی پیروی کرتی ہے۔ ہر چیز اس ضابطہ پرعمل کرتے ہوئے اپنی تکمیل کے مرحلہ تک پہنچتی ہے۔

اسی طرح انسانی زندگی کے لیے بھی قدرت کا ایک مقرر کیا ہوا ضابطہ ہے۔ جو آدمی اس ضابطہ کی پیروی کرتا ہے وہ اس دنیا میںکامیاب ہوتا ہے۔ جو آدمی اس مقرر ضابطہ سے انحراف کرتاہے وہ یہاں ناکام و نامراد ہو کر رہ جاتا ہے۔

اس ضابطہ کی بنیادی دفعہ یہ ہے کہ انسانی دنیا کے نظام کو مقابلہ اور مسابقت کے اصول پرقائم کیا گیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دوسرے آدمی کا لحاظ کرنا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دوسرے آدمیوں سے مقابلہ کرکے اپنا ضروری حق وصول کرنا ہے۔

اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جب بھی کسی شخص یا قوم کو کچھ ملتا ہے تو وہ اپنی صلاحیت کی بنا پر ملتا ہے اور اگر کسی سے کچھ چھنتا ہے تو اپنی کوتاہی کی بنا پر چھنتا ہے۔ اس لیے یہاں زندگی کی دوڑ میں اگر کوئی طبقہ محروم رہ جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے خود اپنے اندر اس سبب کو تلاش کرے جس نے اسے محرومی میں ڈال دیا۔

زیرِ نظر مجموعہ مختلف پہلوئوں سے اسی اصولِ فطرت کی تشریح ہے۔ اس کی ترتیب سادہ طور پر کمیت کے قاعدہ پر کی گئی ہے۔ پہلے ایک صفحہ والے مضامین، اس کے بعد دو صفحہ والے مضامین۔ اس کے بعد کئی صفحہ والے مضامین۔ اسی نسبت سے اس کو حسب ذیل تین ابواب پر تقسیم کیا گیا ہے— صفحاتِ حکمت، اوراقِ حکمت ، مضامینِ حکمت۔

وحید الدین

19 مارچ 1992ء

باب اول

صفحاتِ حکمت

پختہ انسان

این لینڈرس (Ann Landers) نے پختگی کے بارے میں ایک مضمون لکھا ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے: پختگی یہ ہے کہ آدمی غصہ پر قابو پا لے، اور اختلافات کو تشدد اور تخریب کے بغیر حل کر سکے۔ پختگی برداشت کا نام ہے، یہ آمادگی کہ دیر طلب فائدہ کے لیے وقتی خوشی کو ترک کر دیا جائے۔ پختگی دراصل ثابت قدمی ہے، رکاوٹوں کے باوجود منصوبہ کی تکمیل کے لیے اپنی محنت جاری رکھنا۔ پختگی بے غرضی ہے، دوسروں کی ضرورتوں میں ان کے کام آنا۔ پختگی اس استعداد کا نام ہے کہ ناخوش گواری اور مایوسی کا سامنا کسی تلخی کے بغیر کیا جائے۔ پختگی انکساری ہے۔ ایک پختہ انسان یہ کہنے کے قابل ہوتا ہے کہ ’’میں غلطی پر تھا‘‘۔ اور جب وہ صحیح ثابت ہوتا ہے تو وہ یہ نہیں کہتا کہ یہ بات میں نے تمہیں بتا دی تھی۔ پختگی کا مطلب ہے قابل اعتماد اور ایمان دار ہونا، اپنے وعدہ کو ہر حال میں پورا کرنا۔ پختگی اس صلاحیت کا نام ہے کہ ہم ان چیزوں کے ساتھ پُرامن طور پر رہ سکیں جن کو ہم بدل نہیں سکتے:

unverifiedAttribution could not be verified automatically

Maturity is the ability to control anger, and settle differences without violence or destruction. Maturity is patience, the willingness to give up immediate pleasure in favour of the long-term gain. Maturity is perseverance, sweating out a project despite setbacks. Maturity is Unselfishness, responding to the needs of others. Maturity is the capacity to face unpleasantness and disappointment without becoming bitter. Maturity is humility. A mature person is able to say, ''I was wrong.'' And when he is proved right, he does not have to say, ''I told you so.'' Maturity means dependability, integrity, Keeping one,s word. Maturity is the ability to live in peace with things we cannot change.

unverifiedAttribution could not be verified automatically

پختہ انسان وہ ہے جس میں مردانہ اوصاف پائے جائیں۔ جو حقیقتِ واقعہ کااعتراف کرے۔ جو ردعمل سے اوپر اٹھ کر معاملہ کرے۔ جو اپنے جذبات کو قابو میں رکھ سکے۔ جس کے اندر ناخوش گواری کو تحمل کے ساتھ عبور کرنے کی صلاحیت ہو۔ جو لوہے کی طرح قابل اعتماد کردار کا حامل ہو۔

یہی پختگی انسانیت کا کمال ہے۔ جس انسان کے اندر یہ خصوصیات ہوں، وہی کامل انسان ہے۔ وہی انسانیت کے اعلیٰ درجہ تک پہنچا ہے۔ ایسے ہی افراد زندگی میں کوئی حقیقی کارنامہ انجام دیتے ہیں۔ اور یہی افراد ہیں جو کسی قوم کو ترقی اور کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content