Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Aarzi daur e hayat, Abadi daur e hayat

Urdu · 4 min

عارضی دورِ حیات، ابدی دورِ حیات۔ ایک طالبِ علم جب اپنی زندگی کے تعلیمی مرحلے میں ہو تو اس کی سوچ اس سے مختلف ہوتی ہے، جبکہ وہ اپنی تعلیم کو مکمل کر کے اپنے لیے ایک اچھا جاب حاصل کر لے۔ پہلے مرحلے میں وہ اس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ ایک مسافر ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں وہ اس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ گیا ہو۔ پہلے مرحلے میں وہ ہر چیز کو ایک وقتی چیز سمجھتا ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں وہ ہر چیز کو اس حیثیت سے لیتا ہے جیسے کہ وہ اس کی زندگی کا مستقل حصہ ہو۔

یہی معاملہ وسیع تر معنوں میں انسانی زندگی کا ہے۔ انسان کو ہمیشہ کی عمر دی گئی ہے؛ اس عمر کے دو حصے ہیں: قبل از موت اور بعد از موت۔ قبل از موت آدمی اپنے عارضی دورِ حیات میں رہتا ہے، بعد از موت وہ اپنے ابدی دورِ حیات میں پہنچ جاتا ہے۔ اگر یہ حقیقت آدمی کے اندر زندہ شعور کے طور پر موجود ہو تو یہی اس کی مکمل اصلاح کے لیے کافی ہو جائے۔

موجودہ دنیا کو مذہبی اصطلاح میں "فتنے کی دنیا" کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا ایک مغالطے کی دنیا، یعنی deceptive world ہے۔ یہاں کی ہر چیز کسی نہ کسی اعتبار سے مغالطے کا رول، یعنی deceptive role، ادا کر رہی ہے۔ یعنی موجودہ عارضی دنیا کو مستقل دنیا کے روپ میں دکھانا، موجودہ دنیا کی وقتی چیز کو مستقل چیز کی حیثیت سے متعارف کرنا۔

فانی بدایونی ایک اردو شاعر تھے، انہی اپنی زندگی میں کچھ ایسے تجربات پیش آئے جس نے انہیں بتایا کہ موجودہ دنیا ایک بے حقیقت دنیا ہے۔ یہاں کی ہر خوشنمائی صرف ظاہری اور وقتی خوشنمائی ہے۔ اپنے اس تجربے کو انہوں نے ان الفاظ میں نظم کیا تھا: "فریبِ جلوہ اور کتنا مکمل، اے معاذاللہ! " فریبِ جلوہ اور کتنا مکمل، اے معاذاللہ!

بڑی مشکل سے دل کو بزمِ عالم سے اٹھا پایا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی ہر چیز مغالطہ آمیز ہے۔ وہ وقتی چیز کو مصنوعی طور پر ابدی رنگ میں دکھاتی ہے۔ کامیاب وہ ہے جو موجودہ دنیا کو عارضی دورِ حیات سمجھے، اور ناکام وہ ہے جو اس دنیا کو ابدی دورِ حیات سمجھ لے۔

کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 610۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.