Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Jannat ek nazriya-e-hayaat.

Urdu · 4 min

جنت ایک نظریۂ حیات ہے۔ جنت کا عقیدہ سادہ طور پر صرف ایک عقیدہ نہیں ہے؛ وہ پورے معنوں میں ایک نظریۂ حیات ہے۔ جنت کے عقیدے کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ جنت کی اہمیت کو صرف اس وقت سمجھا جا سکتا ہے جبکہ اس کو انسان کی پوری زندگی سے جوڑ کر دیکھا جائے۔

انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ ایک متلاشیِ جنت حیوان، یعنی paradise-seeking animal ہے۔ انسان کی پوری فطرت ایک ایسی دنیا چاہتی ہے جو اس کے لیے آئیڈیل دنیا، یعنی ideal world ہو، جہاں اس کو تمام چیزیں معیاری درجے میں حاصل ہوں۔ اسی کا نام جنت ہے۔ اور اس جنت کا حصول ہر عورت اور ہر مرد کا مشترک خواب ہے۔

انسان کی موجودہ حالت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام انسان آخری حد تک مادی چیزوں کے حریص بنے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی زیادہ سے زیادہ دولت اور زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ سب اسی لیے ہے کہ انسان یہ چاہتا ہے کہ اپنی فطرت میں چھپی ہوئی جنت کو وہ اس دنیا میں واقع بنا سکے۔ مگر یہاں ایک حقیقت اس کے لیے مستقل رکاوٹ ہے: موجودہ دنیا اپنے اسباب کے اعتبار سے ایک غیر معیاری دنیا، یعنی imperfect world ہے۔

اس قسم کی غیر معیاری دنیا میں، معیاری جنت کی تعمیر سرے سے ممکن ہی نہیں۔ امکان اور واقعے کے درمیان یہی تضاد اس دنیا کی تمام برائیوں کا اصل سبب ہے۔ اسی بنا پر لوگ مستقل طور پر ذہنی تناؤ، یعنی tension، میں جیتے ہیں۔ اسی بنا پر لوگ تشدد پسند بن جاتے ہیں۔

اسی بنا پر لوگ جھنجھلاہٹ، یعنی frustration، کا شکار رہتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے: وہ یہ کہ لوگوں کے اندر اس حقیقت کا شعور پیدا کیا جائے کہ جنت کسی کو صرف اگلی دنیا میں مل سکتی ہے، نہ کہ موجودہ دنیا میں۔ جنت کا عقیدہ آدمی کو حقیقت پسند بناتا ہے۔ جنت کا عقیدہ آدمی کو حقیقت پسند بنانا ہے، اور حقیقت پسندی ہی تمام کامیابیوں کا واحد راز ہے۔

کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 485۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.