سچائی کی سیٹ پر، قرآن کی سورہ القمر میں اہلِ جنت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ آخرت میں بادشاہِ کائنات کے پاس سچائی کی سیٹ پر ہوں گے۔ في مقعد صدق عند ملك مقتدر At the seat of truth, with an all-powerful sovereign. چیپٹر نمبر 54، ورس نمبر 55۔ قرآن کی اس آیت کے مطالعے سے دنیا اور آخرت کا فرق معلوم ہوتا ہے۔
دنیا میں ان لوگوں کو عزت ملتی ہے جو مقعدِ کذب یعنی جھوٹ کی سیٹ پر کھڑے ہوں۔ آخرت میں اس کے برعکس معاملہ ہوگا۔ آخرت میں عزت کا مقام صرف ان لوگوں کو ملے گا جو دنیا کی زندگی میں مقعدِ صدق پر کھڑے ہوئے تھے۔ دنیا میں سچائی پر کھڑے ہونے والوں کو آخرت میں یہ انعام ملے گا کہ وہاں وہ سچائی کے مقام پر کھڑے ہونے کی عزت حاصل کریں۔
دنیا میں جھوٹ پر کھڑے ہونے والے کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو ظاہری چیزوں میں جیتے ہوں، جو خودغرضی کے طریقوں میں مہارت رکھتے ہوں، جو موقع پرست ہوں اور استحصال کرنے کا مزاج رکھتے ہوں، جو لوگوں کو خوش کر کے مادی فائدے حاصل کرنے کے ماہر ہوں، جو لوگوں کو ان کی پسند کی خوراک دینا جانتے ہوں، جو کل کو نظرانداز کر کے آج کے مفادات میں جیتے ہوں۔ یہ لوگ آج کی دنیا میں عزت کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں، مگر آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ صرف جھوٹ کی سیٹ پر جگہ پائیں گے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے لوگ وہ ہیں جو موجودہ دنیا میں اس طرح رہیں کہ ان کا سب سے بڑا کنسرن سچائی ہو۔
وہ دیانت داری یعنی honesty کو سب سے زیادہ اہمیت دینے والے ہوں۔ وہ مفاد پرستی کے بجائے حق پرستی میں جینے والے ہوں۔ جو وقتی مصلحت کے بجائے اعلیٰ مصلحت کو اہمیت دیتے ہوں۔ جن کا معیار اصول پسندی ہو، نہ کہ بے اصولی۔
یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں عزت کے اعلیٰ مقامات پر سرفراز کیے جائیں گے، خواہ دنیا میں بظاہر وہ بے عزت سمجھ لیے گئے ہوں۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 453۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.