تسبیح خداوندی۔ قرآن میں بار بار یہ تعلیم دی گئی ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی تسبیح کرے۔ اس کے لیے دوسرے الفاظ بھی آئے ہیں، مثلاً تحمید، تمجید، تقدیس وغیرہ۔ ان سب کا خلاصہ ایک ہے، اور وہ ہے اعتراف، یعنی acknowledgement۔
انسان کی نسبت سے جس چیز کو اعتراف کہا جاتا ہے، اسی کو اللہ کی نسبت سے تسبیح و تحمید کہا گیا ہے۔ تسبیح و تحمید کے الفاظ دراصل اعتراف ہی کی منزہ تعبیریں ہیں۔ پھر ان سب کا خلاصہ صرف ایک ہے، اور وہ glorification ہے، یعنی اللہ کی عظمت و کبریائی کا بندے کی زبان سے اظہار۔ خدا اور بندے کے درمیان جو نسبت ہے، وہ دینے والے اور پانے والے کی نسبت ہے۔
بندے کے پاس اللہ کو دینے کے لیے کچھ نہیں۔ واحد چیز جس کو ایک بندہ اپنے رب کے سامنے پیش کر سکتا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اللہ رب العالمین کو اس کی حیثیتِ واقعی کے ساتھ دریافت کرے۔ اسی دریافت کا نام معرفت، یعنی realization ہے۔ جب کوئی بندہ جہاد فی اللہ کرتا ہے، یعنی اللہ کے معاملے میں انتہائی حد تک غور و فکر، اس وقت اللہ کی توفیق سے اس پر حقیقتِ خداوندی کا انکشاف ہوتا ہے۔
وہ کامل یقین کے درجے میں اللہ کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ اس کے بعد اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے ذہن میں ایک فکری بھونچال آ جاتا ہے۔ وہ اندرونی طوفان کے ذریعے اللہ کا اعلیٰ اعتراف کرنے والے الفاظ بولنے لگتا ہے۔ یہ گویا معرفتِ داخلی کا خارجی الفاظ میں ڈھل جانا ہے۔
یہی وہ واقعہ ہے جس کو قرآن میں تسبیح و تحمید جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ کسی انسان کا اس طرح اللہ کو دریافت کرنا کوئی آسان بات نہیں۔ یہ مخلوق کا اپنے خالق کو دریافت کرنا ہے۔ یہ طالب کا اپنے مطلوب کو دریافت کر لینا ہے۔
یہ عاجزِ مطلق کا قادرِ مطلق کو دریافت کر لینا ہے۔ اس دریافت کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ یہ وہ لمحہ ہے جب کہ ایک انسان اپنے رب کو اس کی حیثیتِ واقعی کے ساتھ دریافت کر لیتا ہے۔ وہ اس پوزیشن میں ہو جاتا ہے کہ وہ دیکھے بغیر اللہ کو دیکھے۔ وہ دوری کے باوجود اللہ کی قربت کا تجربہ کرے۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 421۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.