پراسرار نہیں۔ اسمائے حسنیٰ کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ وہ حروفِ مقطعات کی مانند کچھ پراسرار الفاظ ہیں۔ ان الفاظ کے اندر کوئی معجزاتی تاثیر چھپی ہوئی ہے، جیسے کہ جادوگروں کے منتر میں ہوتی ہے۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم ان کو یاد کر کے ان کا ورد کرتے رہیں، اور پھر پراسرار طور پر ہمیں ان کے انوکھے فوائد ملتے رہیں گے۔
اکثر لوگوں کے دماغ میں اسی قسم کا تصور بسا ہوا ہے، مگر اسمائے حسنیٰ کے بارے میں اس قسم کا تصور سرتاسر بے بنیاد ہے۔ اسمائے حسنیٰ کسی بھی درجے میں پراسرار الفاظ نہیں؛ وہ پورے معنوں میں ایک معلوم اور بامعنی حقیقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسمائے حسنیٰ کا معاملہ بلاشبہ انسان کے لیے ایک عظیم رحمت کا معاملہ ہے، مگر یہ رحمت کوئی پراسرار رحمت نہیں، بلکہ وہ ایک ایسی رحمت ہے جو پوری طرح ہمارے معلوم دائرے کی چیز ہے اور علمی طور پر اس کی تشریح کی جا سکتی ہے۔ اسمائے حسنیٰ دراصل خدا کی رحمتوں کے معلوم دروازے ہیں۔
قرآن میں ان دروازوں کو اس لیے کھولا گیا ہے کہ آدمی ان کی دریافت کرے اور ان کے راستے سے گزر کر وہ خدا کی رحمتوں کی دنیا میں پہنچ جائے۔ اسمائے حسنیٰ گویا کہ رحمتِ خداوندی کے ابوابِ حسنیٰ ہیں۔ اسمائے حسنیٰ ہم کو خدا سے مربوط کرنے کا ذریعہ ہیں۔ اسمائے حسنیٰ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی وہ کلیدِ معرفت ہے جو ہمارے دل و دماغ کو بیدار کرتی ہے اور ہم کو تاریکی سے روشنی کی طرف لے جانے کا ذریعہ ہے۔
کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 354۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.