کائناتی شکر۔ اکثر لوگوں کو آپ یہ کہتے ہوئے سنیں گے کہ "اللہ کا شکر ہے کہ شہر میں میرا ذاتی مکان ہے"، "اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے اولاد دی ہے"، "اللہ کا شکر ہے کہ میرا اپنا بزنس ہے"، "اللہ کا شکر ہے کہ میرے پاس 2 گاڑیاں ہیں" وغیرہ۔ اس قسم کا شکر چھوٹا شکر ہے۔ اس قسم کے شکر سے آپ کے اندر اللہ کے لیے شکر کا دریا جاری نہیں ہو سکتا، جبکہ خداوندِ برتر کے لیے وہ شکر مطلوب ہے جو دریاؤں اور سمندروں کی طرح آپ کے سینے میں معجزاً ہو جائے۔
اللہ کے لیے بڑا شکر کب پیدا ہوتا ہے؟ یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جبکہ آپ کے اندر توسیعی شکر، یعنی ایکسٹینڈڈ شکر کا ذہن پیدا ہو جائے۔ اس معاملے میں آپ کی نظر صرف اپنی ذات پر نہ ہو، بلکہ آپ اپنے آپ کو انسان کے ساتھ ایسوسی ایٹ کر کے دیکھ سکیں۔ جب آپ کے اندر اس قسم کی نفسیات پیدا ہو جائے، اس وقت آپ کے اندر وہ اعلیٰ شکر پیدا ہوگا جس کو آفاقی شکر یا کائناتی شکر، یعنی یونیورسل شکر، کہا جا سکتا ہے۔
ایک باپ کا بیٹا زیادہ ترقی کر جائے تو وہ اس کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے، کیونکہ وہ بیٹے کی ترقی کو خود اپنی ترقی سمجھتا ہے۔ حتیٰ کہ بیٹا اگر امریکہ میں ترقی کر رہا ہے اور وہ خود انڈیا میں ہے، تب بھی وہ دور ہونے کے باوجود اپنے بیٹے کی ترقی کی خبر سن کر خوش ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے دل میں اللہ کے لیے بڑا شکر پیدا ہو، تو آپ اپنی ذات کو پوری انسانیت کے ساتھ ایسوسی ایٹ کیجیے۔ ایسی حالت میں یہ ہوگا کہ دوسرے انسانوں کی ترقی آپ کو خود اپنی ترقی نظر آنے لگے گی۔
ذاتی نعمت پر اگر آپ کے اندر ایک درجے کا شکر پیدا ہوا تھا، تو پوری انسانیت کے ساتھ اپنے آپ کو ایسوسی ایٹ کرنے کی شکل میں یہ ہوگا کہ بلین ٹریلین درجے میں آپ کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہو جائے گا۔ پہلے اگر آپ کے سینے میں شکر کا ایک قطرہ تھا، تو اب آپ محسوس کریں گے کہ آپ کے سینے میں شکر کا سمندر معجزاً ہو گیا ہے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 326۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.