Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Mamnuniyat-e-oola,Mamnuniyat-e-saania

Urdu · 7 min

ممنونیتِ اولی، ممنونیتِ ثانیہ۔ قرآن کی سورۃ طہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً أُخْرَى سورۃ نمبر 20، آیت 37۔ اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ پیغمبر موسیٰ قدیم مصر کے ایک اسرائیلی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اس زمانے کا بادشاہ فرعون اسرائیلی نسل کو ختم کرنا چاہتا تھا، اس لیے اس نے یہ حکم دے دیا تھا کہ اسرائیلی گھروں میں جو لڑکا پیدا ہو، اس کو مار ڈالا جائے۔

موسیٰ کا انجام بھی یہی ہو سکتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک مخصوص تدبیر کے ذریعے ان کو بچا لیا۔ یہ موسیٰ پر اللہ تعالیٰ کا پہلا احسان تھا۔ اس کے بعد جب حضرت موسیٰ کو نبوت عطا ہوئی، اور آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ کہا کہ ہارون کو میرے مددگار کے طور پر مجھے دے دے، اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی۔ یہ حضرت موسیٰ کے لیے ایک استثنائی عطیہ تھا۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک پیغمبر کی درخواست پر دوسرے شخص کو پیغمبر بنا دینا۔ قرآن کے مذکورہ بیان میں اسی دوسرے احسان کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت موسیٰ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا پہلا احسان یہ تھا کہ ان کو بچپن میں ہلاکت سے بچا لیا، اور دوسرا احسان یہ تھا کہ ان کی درخواست پر ایک غیر نبی کو نبی بنا دیا تاکہ وہ ان کی بھرپور مدد کرے۔ قرآن کا ایک اسلوب یہ ہے کہ اس کی آیتوں کا ایک مصداق اول، یعنی فرسٹ اپلیکیشن، ہوتا ہے، اور اسی کے ساتھ اس کا ایک مصداق ثانی، یعنی سیکنڈ اپلیکیشن، ہوتا ہے۔

حضرت موسیٰ کا مذکورہ واقعہ بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے۔ ہر آدمی کی زندگی میں کوئی خاص واقعہ ایسا پیش آتا ہے جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد کی بنا پر نقصان سے بچ جاتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے بارے میں خدا کی اس پہلی مدد کو دریافت کرے، تاکہ وہ اس کے حوالے سے خدا کی دوسری مدد کے لیے درخواست کر سکے۔ وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً أُخْرَى میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔

اگر کسی انسان کو ممنونیتِ اولی کی حقیقی دریافت ہو جائے تو اس کے اندر ایک گہرا جذبہ پیدا ہوگا۔ وہ اس قابل ہو جائے گا کہ وہ خدا کی ممنونیتِ اولی کے حوالے سے اپنے حق میں خدا سے ممنونیتِ ثانیہ کی درخواست کر سکے۔ دعا کے لیے یہ ایک اہم حوالہ، یعنی پوائنٹ آف ریفرنس، ہے جو ہر عورت اور مرد کی زندگی میں پایا جاتا ہے، بشرطیکہ وہ گہری سوچ کے ذریعے اس حوالے کو دریافت کر سکے۔ ایک شخص کا واقعہ ہے: اپنی نوجوانی کی عمر میں کسی حادثے کی بنا پر وہ بہت زیادہ مایوس ہوا، حتیٰ کہ اس نے خودکشی کا اختتام کر لیا۔

اللہ تعالیٰ نے بروقت اس کی مدد کی، اور وہ خودکشی کی موت مرنے سے بچ گیا۔ بعد کو بڑی عمر میں جب اس کا مطالعہ بڑھا اور اس نے حقیقتوں کو جانا، تو اس نے اپنی نوجوانی کی عمر کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے خدا سے یہ دعا کی کہ خدایا، اگر میں خودکشی کر کے مر گیا ہوتا تو آج میں جہنم کی آگ میں پڑا ہوا ہوتا۔ یہ تیرا احسان تھا کہ تو نے مجھ کو پہلی بار جہنم سے بچا لیا۔ تبھی موت کے بعد دوبارہ مجھے اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہوگا۔

اس وقت تو دوبارہ مجھے جہنم کی آگ سے بچا لے۔ تو نے پہلی بار میرے ساتھ احسان فرمایا، اب دوسری بار بھی تو میرے ساتھ احسان فرما، اور میرے اوپر اپنی نعمت، یعنی بلیسنگ، کو مکمل کر دے۔ سب سے زیادہ مؤثر دعا وہ ہوتی ہے جو کسی واقعے کے حوالے، یعنی پوائنٹ آف ریفرنس، کو لے کر کی جائے۔ مذکورہ قسم کا حوالہ ہر آدمی کی زندگی میں موجود ہوتا ہے، جو اس کی دعا کو نہایت مؤثر بنا دیتا ہے۔

لیکن عام لوگ، لیکن عام طور پر لوگ اس قسم کا غور و فکر نہیں کرتے، چنانچہ وہ اس قیمتی حوالے سے محروم رہتے ہیں۔ اس بے خبری کی بنا پر لوگوں کو دعا کا صرف ایک تصغیری فارم، یعنی ریڈیوسڈ فارم، حاصل ہوتا ہے۔ وہ دعا کے نام پر کچھ الفاظ کو یاد کر لیتے ہیں، اور ان یاد کیے ہوئے الفاظ کو دہراتے رہتے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک بہت بڑی محرومی ہے۔

جب آدمی کے پاس دعا کا اعلیٰ فارم موجود ہو، لیکن وہ صرف دعا کے ادنیٰ فارم کو دہراتا رہے، تو یہ اس کے لیے اتنی بڑی محرومی ہوگی جتنی بڑی محرومی اور کوئی نہیں۔ دعا کے نام پر رٹے ہوئے الفاظ کو دہرانا بلاشبہ دعا کی تصغیر ہے۔ دعا کا اعلیٰ طریقہ ہے ایک رحمتِ خداوندی کے حوالے سے دوسری رحمتِ خداوندی کا طالب بننا۔ Asking another blessing with reference to previous blessing کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 292۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.