عجز اور اختیار۔ قرآن کی سورہ فاطر کی ایک آیت یہ ہے: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ سورہ نمبر 35، آیت 15۔ یعنی: اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو، اور اللہ بہت بے نیاز اور تعریف والا ہے۔
یہی بات ایک حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ ضَالٌ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ یا عبادی! کُلُّکُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمُكُمْ یا عبادی! کُلُّکُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ فَاسْتَكْسُونِي أُكْسِكُمْ صحیح مسلم، رقم الحدیث 6737۔ یعنی: اے میرے بندو!
تم سب کے سب بھٹکے ہوئے ہو، سوا اس کے جس کو میں راہ دکھاؤں۔ تم مجھ سے رہنمائی مانگو، میں تم کو رہنمائی دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو، سوا اس کے جس کو میں کھلاؤں۔
تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کو کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب عاری ہو، سوا اس کے جس کو میں پہناؤں۔ تم مجھ سے طلب کرو، میں تم کو پہناؤں گا۔
اللہ نے انسان کو ہر اعتبار سے ایک کامل وجود دیا، لیکن انسان کو کسی بھی اعتبار سے ذاتی اختیار حاصل نہیں۔ انسان مکمل طور پر ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس عجز کی تلافی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ موجودہ دنیا میں اس عجز کی تلافی بقدرِ ضرورت کی گئی ہے، جس کا اشارہ قرآن کی سورہ ابراہیم کی اس آیت میں موجود ہے: وَأَتَيكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ سورہ نمبر 14، آیت 34۔
آخرت میں اہل جنت کے لیے اس عجز کی تلافی بقدرِ خواہش کی جائے گی، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ سورہ نمبر 41، آیت 31۔ اسی حقیقت کی دریافت سب سے بڑی معرفت ہے۔ قادرِ مطلق خدا کے مقابلے میں اپنے عجزِ تام کو شعوری طور پر دریافت کرنا، یہی معرفت کا آغاز ہے۔ اس دریافت کے بغیر کسی انسان کے اوپر معرفت کا دروازہ نہیں کھلتا۔
معرفت سے بہرہ مند لوگوں کے لیے جنت ہے، اور معرفت سے بے بہرہ لوگوں کے لیے جہنم۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 278۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.