Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Kaifiyyaat,Kammiyyaat.

Urdu · 4 min

کیفیات، کمیت۔ موجودہ زمانے میں بہت سی مسلم جماعتیں اور مسلم تنظیمیں وجود میں آئی ہیں، ان میں سے ایک اور دوسرے کے درمیان بہت سے فرق پائے جاتے ہیں، مگر ایک چیز سب میں مشترک ہے اور وہ یہ کہ ہر ایک نے کسی نہ کسی پہلو سے اسلام کی کمیتی تعبیر کر رکھی ہے۔ کیفیات پر مبنی تعبیر کے بجائے کمیت پر مبنی تعبیر، میرے نزدیک سرتاسر گمراہی ہے۔ اس نے موجودہ زمانے میں زبردست نقصان پہنچایا ہے۔

کیفیاتی تعبیر کی صورت میں آدمی ہمیشہ اپنی دینداری کے بارے میں شک میں مبتلا رہتا ہے، کیونکہ کیفیات یعنی تقویٰ اور خشیت داخلی چیزیں ہیں، ان کو ناپا اور تولا نہیں جا سکتا۔ لیکن کمیتی تعبیر میں دینداری ایک ایسی چیز بن جاتی ہے جس کو خارجی اعتبار سے ناپا اور تولا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی بے خوف ہو جاتا ہے، وہ اپنے عمل کو ناپ تول میں ڈھال کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ جو عمل مجھے کرنا تھا وہ میں نے کر دیا۔ کیفیت پر مبنی سوچ خدا کا خوف پیدا کرتی ہے، اور کمیت پر مبنی سوچ آدمی کے اندر فرضی یقین پیدا کر کے اس کو خدا سے بے خوف بنا دیتی ہے۔

اصحاب رسول ہمیشہ لرزاں اور ترساں رہتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک دین داخلی کیفیت کا نام تھا، اور داخلی کیفیت کو ناپ تول کی زبان میں معلوم نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان خدا سے بے خوف ہو گئے، کیونکہ وہ اپنے کمیتی ذہن کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ کرنا تھا وہ ہم نے کر دیا، اب ہمارا معاملہ بالکل درست ہے۔ سیاست پر مبنی تعبیر، مسائل پر مبنی تعبیر، فضائل پر مبنی تعبیر، برکت پر مبنی تعبیر، وسیلے پر مبنی تعبیر، عشق رسول پر مبنی تعبیر، مظاہر شرک پر مبنی تعبیر، خیر امت پر مبنی تعبیر وغیرہ۔ یہ تمام تعبیریں ظواہرِ دین پر مبنی تعبیریں ہیں۔

دینِ مسلمہ طور پر داخلی حقیقت کا نام ہے، اس لیے ہر وہ تعبیرِ دین جو ظواہر یا فارم پر مبنی ہو، وہ بلاشبہ باطل قرار پائے گی۔ اور ظواہرِ دین پر چلنا خود ساختہ دین پر چلنا ہے، نہ کہ خدا کے بھیجے ہوئے دین پر چلنا۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 264۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.