Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Shadabi laut aaee.

Urdu · 4 min

شادابی لوٹ آئی۔ دہلی میں میری رہائش گاہ کے پاس ایک درخت ہے، اس کو میں "spiritual tree" کہتا ہوں۔ اس کے نیچے میں دیر تک بیٹھتا ہوں، اس سے مجھے روحانی سکون ملتا ہے۔ برسات کے موسم سے پہلے یہ درخت بالکل سوکھ گیا تھا۔

بظاہر وہ ٹھنڈ، یعنی stem، دکھائی دیتا تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ درخت کی عمر شاید ختم ہو گئی ہے، وہ دوبارہ شاداب ہونے والا نہیں۔ مگر برسات کا موسم آنے کے بعد وہ دوبارہ ہرا ہونے لگا۔ اس کی شاخوں پر ہری پتیاں نکلنے لگیں، یہاں تک کہ اگست کے آخر تک دوبارہ وہ پوری طرح ہرا بھرا ہو گیا۔

اس کی شادابی مکمل طور پر لوٹ آئی۔ یہ تمثیل کے روپ میں انسان کے لیے ایک سبق ہے: انسان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ انسان کی روحانی زندگی کے لیے ضرورت ہے کہ اس کو پانی ملتا رہے۔ جو انسان اس پانی سے محروم ہو جائے، اس کی شخصیت سوکھے درخت جیسی ہو جائے گی۔

انسانی زندگی کے لیے یہ حیات بخش پانی، خدائی فیضان یعنی divine inspiration ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ خداوند ذوالجلال سے مسلسل روحانی ربط قائم رکھے۔ اسی ربط سے اس کو شادابی ملے گی۔ یہ ربط کسی وجہ سے ٹوٹ جائے تو وہ سوکھے درخت کی مانند ہو کر رہ جائے گا۔

خداوند ذوالجلال سے اس ربط کا ذریعہ ذکر ہے۔ خداوند ذوالجلال کو یاد کرنا کیا ہے؟ وہ کسی قسم کے اوراد کا نام نہیں ہے۔ وہ مختلف حالات میں اس کو بار بار یاد کرنا ہے۔

مثلاً مذکورہ قسم کے درخت کو آپ نے دیکھا تو اس کے اندر آپ کو خدا کا کرشمہ نظر آیا۔ آپ نے تڑپتے ہوئے دل کے ساتھ کہا کہ "خدایا، تو نے جس طرح اس درخت کو شاداب کیا ہے، اسی طرح تو مجھے بھی شاداب کر دے۔ " میں ایک سوکھا ہوا درخت ہوں۔ تو اپنے فیضان رحمت سے مجھ کو ایک شاداب درخت بنا دے۔

اس تجربے کا تعلق کسی ایک چیز سے نہیں، اس کا تعلق تمام چیزوں سے ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز میں یہی ربانی غذا موجود ہے۔ دانشمند انسان وہ ہے جو اس ربانی غذا کو لیتے ہوئے اس دنیا میں زندگی گزارے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 247۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.