Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Tazkiye ka muharrik.

Urdu · 3 min

تزکیہ کا محرک: اگر یہ کہا جائے کہ اسلام کا نشانہ، یعنی گول، صالح نظام قائم کرنا ہے، اس صالح نظام کے لیے صالح افراد درکار ہیں۔ تزکیہ کا مقصد یہ ہے کہ ایسے صالح افراد تیار کیے جائیں جو صالح نظام بنا سکیں۔ یہ بات کہنے میں بظاہر بے ضرر معلوم ہوتی ہے، لیکن وہ تزکیہ کے پروسیس کے لیے بلاشبہ قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قسم کے تصورِ اسلام کے تحت کبھی تزکیہ کا عمل مؤثر طور پر جاری نہیں ہو سکتا۔

اس امتحان کی دنیا میں انسان کو ایسے حالات کے درمیان رہنا پڑتا ہے جہاں ہر طرف تزکیہ کے خلاف اسباب موجود ہیں۔ ایسی حالت میں تزکیہ کا عمل جاری کرنے کے لیے نہایت طاقتور محرک، یعنی strong incentive، درکار ہے۔ اور طاقتور محرک وہی ہو سکتا ہے جس میں سارا فوکس اپنی ذات پر ہو، نہ کہ کسی خارجی نظام پر۔ حقیقی تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ آدمی یہ محسوس کرے کہ تزکیہ کے بغیر وہ ہرگز کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔

تزکیہ نہ کرنے کی صورت میں اس کے لیے ابدی محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس قسم کے طاقتور محرک کے بغیر کبھی کوئی شخص تزکیہ پر کاربند نہیں ہو سکتا۔ حقیقی تزکیہ کے لیے شدید محاسبہ درکار ہوتا ہے، اور شدید محاسبہ کبھی کسی خارجی نظام کی نسبت سے پیدا نہیں ہو سکتا۔ اگر میں نے اپنا تزکیہ نہ کیا تو میں ہلاک ہو جاؤں گا۔

اس قسم کا گہرا محرک کسی شخص کے اندر صرف اسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جبکہ تزکیہ اس کے لیے ایک انتہائی ذاتی مسئلہ ہو، نہ کہ کوئی خارجی مصلحت یا دور کی کوئی ضرورت۔ نظام ایک خارجی چیز ہے جس کا تعلق پورے معاشرے سے ہوتا ہے۔ اس قسم کا حوالہ کسی آدمی کے اندر طاقتور محرک بن کر داخل نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ ہمیشہ اپنی ذات کے حوالے سے کسی کی زندگی میں شامل ہوتا ہے، نہ کہ کسی خارجی نظام کے حوالے سے۔

کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 209۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.