Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Tazkiye ka ziyaada moassir tareeqa.

Urdu · 3 min

تزکیے کا زیادہ مؤثر طریقہ— تزکیے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ مجرد، یعنی abstract طور پر، اس کے کچھ اصول مقرر کر دیے جائیں، اور اس کو لکھ کر لوگوں کو پڑھنے کے لیے دے دیا جائے۔ یہ بھی تزکیے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔ لیکن تزکیے کا زیادہ مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اس کو کسی پیش آمدہ صورتحال سے وابستہ، یعنی relate کر کے بتایا جائے۔ اس دوسرے طریقے کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کے لیے ایک زندہ مربی یا مزکی موجود ہو۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی خود اپنے شعور کو اتنا زیادہ ترقی یافتہ بنائے کہ وہ خود ہی ہر تجربہ اور ہر مشاہدے میں تزکیے کا پہلو دریافت کرے، اور اس کو اپنے ذہن کا جز بنا لے۔ حضرت ابوذر ایک صحابی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ایک چڑیا کو ہوا میں اپنے پروں سے اڑتے ہوئے دیکھتے تو اس سے آپ ہمیں کوئی معرفت کی یاد دہانی کراتے۔ وما يقلب طائر جناحيه في السماء إلا ذكر لنا منه علماً. الطبقات الابن سعد، رقم الحدیث 2354۔

یہ پیش آمدہ صورتحال کے حوالے سے تزکیے کی تعلیم دینے کی ایک مثال ہے۔ تزکیے کا کوئی مجرد طریقہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی مجرد طریقہ تزکیے کا مؤثر ذریعہ نہیں بن سکتا۔ تزکیے کا مؤثر طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اتنا زیادہ باشعور بنائے کہ اس کے اندر توسم سورہ نمبر 15 آیت 75 کی صفت پیدا ہو جائے۔

وہ پیش آمدہ واقعات کو تزکیے سے وابستہ، یعنی relate کر کے، اس سے ربانی سبق لے سکے۔ تزکیے کا مواد روزمرہ کے تجربات میں ہوتا ہے۔ روزمرہ کے تجربات کو تزکیے کی نظر سے دیکھنا سیکھ لیجیے۔ اس کے بعد ہر تجربہ اور ہر مشاہدہ آپ کے لیے تزکیے کا ذریعہ بن جائے گا۔

کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 195۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.