ضمیر رہبرِ تزکیہ: انسان کے اندر فطری طور پر ایک فیکلٹی ہے جس کو ضمیر، یعنی conscience، کہا جاتا ہے۔ یہ ضمیر ایک خدائی معلم ہے؛ وہ انسان کے لیے رہبرِ تزکیہ، یعنی تزکیہ گائیڈ، کا کام کرتا ہے۔ ضمیر ہر موقع پر خاموش زبان میں انسان کو بتاتا ہے: یہ کرو اور وہ نہ کرو۔ یہ تزکیے کے موافق روش ہے، اور وہ تزکیے کے خلاف روش ہے۔
یہ پاکیزہ شخصیت بنانے والی روش ہے، اور وہ غیر پاکیزہ شخصیت بنانے والی روش، وغیرہ۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ بیشتر لوگوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ ضمیر ان کے لیے رہبرِ تزکیے کا کام نہیں کرتا۔ اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر ضمیر کے ساتھ ایک اور برعکس فیکلٹی موجود ہے: یہ ایگو ہے۔
آدمی اکثر نفس اور شیطان کے زیرِ اثر آ جاتا ہے۔ وہ ضمیر کو اپنا کام کرنے نہیں دیتا۔ ضمیر کی خاموش آواز ہر موقع پر ابھرتی ہے، لیکن ایگو اس آواز کو دبا کر اس کو بے اثر بنا دیتا ہے۔ طالبِ تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حقیقت سے باخبر ہو: وہ اپنی قوتِ فکر کو بیدار کرے۔
وہ ہر موقع پر اپنے ایگو کو زیرو کرتا رہے۔ ایگو کو زیرو کرتے ہی یہ ہوگا کہ ضمیر اپنا فطری رول ادا کرنے لگے گا، اور تزکیے کے راستے پر آدمی کا سفر بھٹکے بغیر جاری رہے گا۔ ایگو کو زیرو کرنے کا یہ کام اس معاملے میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے، لیکن یہ کام کوئی دوسرا شخص انجام نہیں دے سکتا۔ ہر آدمی کو خود یہ کام کرنا ہے کہ جیسے ہی اس کا ایگو جاگے، وہ فوراً متنبہ ہو جائے اور اپنی قوتِ ارادی، یعنی willpower، کو استعمال کرتے ہوئے اپنے ایگو کو زیرو کر دے۔
کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 193۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.