Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Tazkiya aur muhaasaba.

Urdu · 3 min

تزکیہ اور محاسبہ۔ تزکیہ کوئی ایک بار کا عمل نہیں، یعنی ایسا نہیں ہے کہ کوئی شخص ایک بار کوئی کورس کرے اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے ایک مزکّہ انسان بن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ عمل، یعنی پروسیس، آدمی کی زندگی میں ساری عمر جاری رہتا ہے؛ موت سے پہلے وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔

تزکیہ ایک خود احتسابی کا عمل ہے۔ اس عمل میں آدمی کو خود اپنا نگران بننا پڑتا ہے۔ جو آدمی تزکیے کا طالب ہو، اس کو چاہیے کہ وہ ہر لمحہ اپنے قول و عمل کی نگرانی کرتا رہے۔ وہ انتہائی بے لاگ انداز میں بار بار اپنا جائزہ لیتا رہے۔

خود احتسابی کا یہ عمل صرف اس شخص کے اندر جاری ہوتا ہے جس کے اندر ندامت، یعنی ریپنٹنس، اور محاسبہ، یعنی انٹروسپیکشن، کی صلاحیت پائی جائے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہر لمحہ آدمی کے لیے آزمائش کی صورتیں پیش آئیں۔ بار بار وہ نفس کے تقاضوں سے متاثر ہو، شیطان کی ترغیبات اس کو کسی غیر مطلوب چیز میں ملوث کر دیں، ماحول کے اثر سے وہ کسی غلط چیز کا شکار ہو جائے، وغیرہ۔

اس قسم کی تمام چیزیں تزکیہ کی ضد ہیں۔ آدمی کو اتنا زیادہ حساس ہونا چاہیے کہ وہ ہر ایسے موقع پر جاگ اٹھے۔ وہ ہر موقع پر اپنی تطہیر کی کوشش میں لگ جائے۔ وہ ہر ایسی آلودگی کے موقع پر دوبارہ اپنے آپ کو پاکیزہ بنائے۔

یہی تزکیہ ہے۔ اس قسم کی خود احتسابی کے بغیر کوئی شخص مزکّہ شخصیت، یعنی پیوریفائیڈ پرسنالٹی، کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔ محاسبے سے ذہنی ارتقاء، یعنی انٹلیکچول ڈیولپمنٹ، حاصل ہوتا ہے۔ اور ذہنی ارتقاء اس بات کا ضامن ہے کہ تزکیے کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر آدمی کے اندر جاری رہے۔

کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 189۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.