Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Ebaadat me ijtehaad nahi.

Urdu · 4 min

عبادت میں اجتہاد نہیں۔ ایک عالم ایک مشہور صوفی بزرگ کی خانقاہ میں گئے، وہاں انہوں نے دیکھا کہ لوگ ذکر بالجہر اور دوسرے متصوفانہ اعمال میں مشغول ہیں۔ مذکورہ عالم نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو ردٌّ» صحیح البخاری، رحمہ الحدیث 2697۔ یعنی جو شخص ہمارے دین میں کوئی نئی بات نکالے جو اس میں نہ ہو، تو وہ قابلِ رد ہے۔

عالم نے کہا کہ یہ متصوفانہ اعمال جو آپ کے یہاں رائج ہیں، وہ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں نہیں تھے، اس لیے وہ احداث یعنی innovation کا درجہ رکھتے ہیں۔ مذکورہ بزرگ نے جواب دیا کہ حدیث میں احداث فی الامر یعنی دین میں بدعات کی ممانعت ہے، اس میں احداث للامر یعنی دین کے لیے بدعات کی ممانعت نہیں ہے۔ اور تصوف کے یہ طریقے احداث للامر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مذکورہ حدیث رسول کی یہ توجیہ غیر علمی توجیہ ہے، وہ حدیث کے الفاظ سے ہرگز نہیں نکلتی۔

حدیث میں یہ لفظ آیا ہے کہ «ما ليس منه» یعنی جو اس میں نہ ہو، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دین چھوڑا ہے، اس دین میں وہ موجود نہ ہو۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ فی یا لام کے صلے یعنی preposition کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو دین ہم کو ملا ہے، اس میں بعد کا یہ اضافہ موجود تھا یا موجود نہیں تھا۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ذکر بالجہر جیسی چیزیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوڑے ہوئے دین میں موجود نہیں۔ اور جب وہ رسول اللہ کے چھوڑے ہوئے دین میں موجود نہیں ہیں تو فی اور لام جیسے نقطوں کے ذریعے اس کو دین محمدی میں شامل کرنا صرف ایک مبتدیانہ جسارت ہے۔

اس قسم کا نقطہ ایسے اضافوں کے لیے کوئی قابلِ قبول وجہِ جواز نہیں۔ علماء کا اتفاقی مسلک ہے کہ عبادات میں قیاس نہیں، «لا قياس فی العبادات، علم و اصول الفقہ لعبد الوہاب خلّاف» صفحہ 62۔ یعنی تعبدی امور میں صرف تقلید ہے، اس میں کوئی اجتہاد نہیں۔ تعبدی امور میں کوئی استدلال صرف صریح نص پر قائم ہو سکتا ہے، اس کو لفظی نقطوں کی بنیاد پر قائم نہیں کیا جا سکتا۔

تعبدی امور میں لفظی نقطوں کی بنیاد پر اجتہاد کرنا عقلی اعتبار سے غیر علمی ہے، اور دینی اعتبار سے ناقابلِ قبول جسارت۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 180۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.