معرفت کی قیمت۔ ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا، انہوں نے کہا کہ مجھ کو بتائیے کہ میں خدا کی معرفت کیسے حاصل کروں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کی شادی ہو گئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، میرے کئی بچے بھی ہیں۔
میں نے پوچھا کہ آپ اپنے بچوں کے لیے تحفہ لاتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، کبھی کبھی لاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ نہیں، آپ بار بار تحفہ لاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا مطلب یہ ہے کہ روزانہ نہیں لاتا۔
میں نے کہا کہ یہ آدھا جھوٹ ہے۔ کوئی بھی شخص ہر روز اپنے بچوں کے لیے تحفہ نہیں لاتا۔ جو شخص اس قسم کا تحفہ لاتا ہے، وہ صرف کبھی کبھی لاتا ہے۔ اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ معرفت کی باتیں کرتے ہیں، لیکن وہ معرفت سے خالی ہوتے ہیں۔
اس کا سبب یہ ہے کہ وہ معرفت چاہتے ہیں، لیکن وہ معرفت کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اور اس دنیا میں کوئی بھی چیز قیمت ادا کیے بغیر نہیں ملتی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ جس چیز کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہ ہو، اس کی وہ بات بھی نہ کرے، کیونکہ یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ معرفت کے الفاظ بولتا ہے، لیکن وہ معرفت کی اہمیت کو نہیں جانتا۔ کہا جاتا ہے کہ العلم لا يعطیك جزءه حتى تعطيه كله یعنی علم تم کو اپنا جز صرف اس وقت دیتا ہے جب کہ تم اس کو اپنا کل دے دو۔
یہی بات معرفت کے لیے درست ہے۔ معرفت کی قیمت یہ ہے کہ آدمی اپنا سب کچھ اس کو دے دے۔ وہ اس کو اپنا واحد کنسن بنائے۔ وہ معرفت کی سوچ لے کر شام کو سوئے، اور معرفت کی سوچ کے ساتھ صبح کو جاگے۔
وہ اپنے آپ کو معرفت میں اتنا زیادہ غرق کرے کہ وہ اس کا خواب دیکھنے لگے۔ معرفت کی قیمت کامل حوالگی ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو معرفت کے حوالے نہ کرے، معرفت کے دروازے بھی اس کے لیے نہیں کھلتے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 81۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.