Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Marifat aur dua.

Urdu · 4 min

معرفت اور دعا۔ دعا ایک عارفانہ روح سے نکلتی ہے؛ معرفت کے بغیر دعا صرف تکرارِ الفاظ ہے۔ عارفانہ دعا ہی حقیقی معنی میں دعا ہے۔ جو دعا معرفت سے خالی ہو، اس کی حیثیت صرف ایک قسم کی لپ سروس کی ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

دعا ایک عبادت ہے، اور حقیقی عبادت وہی ہے جس میں اللہ رب العالمین کی معرفت شامل ہو۔ دعا کی دو قسمیں ہیں: ایک دعا وہ ہے جو اپنی کسی حاجت کے لیے کی جائے، جس میں دعا کرنے والا اپنے کسی ذاتی مسئلے کا حوالہ دے کر اللہ سے اس کے حل کی درخواست کرے۔ مثال کے طور پر، ایک بے روزگار انسان کا روزگار حاصل کرنے کے لیے اللہ سے دعا کرنا، یہ عام قسم کی دعا ہے۔ یہ دعا بھی ایک مطلوب دعا ہے، اور اخلاص کے بقدر آدمی کو اس کا ثواب ملتا ہے۔

یہ اللہ کے اوپر منحصر ہے کہ وہ ایسی دعا کو سن کر فوراً اس کو پورا کر دے، یا اس کو مستقبل کے خانے میں ڈال دے۔ دوسری دعا وہ ہے جس میں دعا کرنے والا اس طرح دعا کرے کہ اس کا مسئلہ خود خدا کا مسئلہ بن جائے۔ مثلاً قدیم اسپین میں قحط کے وقت، سلطان عبدالرحمن الناصر وفات 961 عیسوی کی دعا، جس میں اس نے کہا تھا: أَتُعَذِّبُ بِيَ الرَّعِيَةِ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ یعنی "کیا تو میری وجہ سے عوام... " یعنی "کیا تو میری وجہ سے عام لوگوں کو سزا دے گا، حالانکہ تو ارحم الراحمین ہے"۔

واقعے کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہنامہ الرسالہ، نومبر 2007، صفحہ 32۔ اس دعا میں قحط کے زمانے میں بارش کو خود خدا کی رحمت کا تقاضا قرار دیا گیا ہے، نہ کہ صرف انسان کی ضرورت کا تقاضا۔ پہلی قسم کی دعا محض انسانی تقاضے کے تحت ظہور میں آتی ہے، لیکن دوسری قسم کی دعا ہمیشہ گہری معرفت کے تحت، کسی انسان کے دل سے نکلتی ہے۔ دوسری قسم کی دعا ہمیشہ عارفانہ دریافت کا نتیجہ ہوتی ہے۔

اس قسم کی دعا ہمیشہ کسی آدمی کے دل سے اس وقت نکلتی ہے جب کہ اس کو اللہ کی قربت کا خصوصی تجربہ ہوا ہو۔ اس قسم کی دعا کی بہت سی مثالیں حدیث میں آئی ہیں: کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 79۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.