Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Azmat-e-insani.

Urdu · 4 min

عظمتِ انسانی، وسیع خلا، یعنی اسپیس میں بے شمار ستارے، یعنی stars، اور سیارے، یعنی planets، اور کہکشائیں، یعنی galaxies ہیں۔ اس میں شمسی نظام، یعنی solar system ہے، جس میں بہت سے سیارے ہیں۔ ان کے درمیان ایک استثنائی سیارہ ہے جس کو زمین کہا جاتا ہے۔ اس زمین پر لاتعداد مخلوقات ہیں۔

ان لاتعداد مخلوقات کے ہجوم میں انسان ہے، جو انوکھی صفات کا حامل ہے۔ ایسی وسیع کائنات، یعنی vast universe میں، ایک انسان زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔ وہ بول کر انسانی الفاظ میں کہتا ہے کہ خدایا تو رب العالمین ہے، میں نے تیری تمام صفتوں کے ساتھ تیری کبریائی کا اعتراف کیا۔ میں تیرے آگے اپنے پورے وجود کے ساتھ سرنڈر کرتا ہوں۔

انسان کے یہ الفاظ خلا میں گونجتے ہیں۔ ان کو کان والے بھی سنتے ہیں اور بغیر کان والے بھی۔ پھر ساری کائنات زبانِ حال سے پکار اٹھتی ہے: دیکھو، یہ انسان بھی کتنا قابلِ رشک ہے۔ ہماری تخلیق میں پہلے سے خدا کی معرفت موجود تھی۔

انسان نے خود اپنی کوشش سے خدا کو دریافت کیا۔ ہم بولے بغیر خدا کی حمد کر رہے تھے، یہ انسان بول کر خدا کی حمد کر رہا ہے۔ ہم مجبورانہ اطاعت پر قائم تھے، انسان نے اختیارانہ اطاعت پر اپنے کو قائم کیا۔ ہم غیر شعوری سطح پر خدا سے تعلق قائم کر پائے تھے۔

انسان شعور کی سطح پر دریافت کیے ہوئے الفاظ میں خالق کا نغمہ گا رہا ہے۔ ہم حالتِ مشہود میں خالق کا اقرار کر رہے تھے، انسان حالتِ غیب میں ہوتے ہوئے خالق کا اعتراف کر رہا ہے۔ ہم گویا مقلدانہ انداز میں خدا کی عبادت کر رہے تھے، انسان تخلیقی، یعنی creative انداز میں خدا کا عبادت گزار بنا ہوا ہے۔ ہم زبانِ حال سے خدا کی بڑائی بیان کر رہے تھے، انسان زبانِ قال سے خدا کی بڑائی بیان کر رہا ہے۔

ہم محدود سطح پر خدا کی تسبیح کر رہے تھے، انسان لامحدود سطح پر خدا کی تسبیح کرنے والا بنا ہوا ہے۔ یہی اعلیٰ معرفت ہے۔ اس قسم کی شعوری معرفت ساری کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ یہی وہ اعلیٰ معرفت والے لوگ ہیں جو جنت الفردوس میں داخل کیے جائیں گے۔

کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 66۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.