Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Marifat ek taqliqi mauzu.

Urdu · 4 min

معرفت ایک تخلیقی موضوع ہے، معرفت کا کوئی سیٹ کورس نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ اوراد و وظائف یا ذکر و اشغال کا کوئی بنا بنایا طریقہ ہے؛ جو شخص بھی اس کو دہرائے، اس کو اپنے آپ معرفت حاصل ہو جائے گی۔ اس قسم کا کوئی نظریہ معرفتِ خداوندی کی تصغیر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفت ایک تخلیقی موضوع، یعنی کریئیٹو سبجیکٹ ہے۔

معرفت کے لیے اجتہادی ذہن درکار ہے۔ معرفت ایک طوفانی تجربہ ہے۔ معرفت کسی شخص کو ذاتی دریافت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے؛ جو معرفت کسی تقلیدی فہم کے دہرانے سے حاصل ہو، وہ کچھ اور چیز ہو سکتی ہے، وہ معرفت نہیں ہو سکتی۔ جس خدا کی صفت "کُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَانٍ" سورہ نمبر 55 آیت 29 ہو، اس کی معرفت کسی جامد یا تقلیدی کورس کے ذریعے حاصل نہیں کی جا سکتی۔

جس چیز کو سیکولر اصطلاح میں تخلیقی فکر، یعنی کریئیٹو تھنکنگ، کہا جاتا ہے، مذہب کی زبان میں اسی کا نام اجتہادی فکر ہے۔ اجتہادی فکر کا مطلب آزادانہ سوچ نہیں ہے؛ اجتہادی فکر کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے بیانات میں چھپے ہوئے معانی کو دریافت کیا جائے۔ معانی کی یہ دریافت اجتہادی فکر کے ذریعے ہوتی ہے۔ اسی اجتہادی فکر سے اعلیٰ معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہ خدائی کتاب، یعنی قرآن، اس لیے اتاری گئی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر تدبر کریں، وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ سورہ نمبر 38 آیت 29۔ اسی غور و فکر پر مبنی نصیحت کا دوسرا نام معرفت ہے۔ اجتہادی معرفت کے حصول میں قرآن کی حیثیت ایک رہنما کتاب کی ہے۔

معرفت کے بنیادی اصول قرآن میں بتا دیے گئے ہیں۔ ان بنیادی اصولوں کی رہنمائی میں غور کر کے، ان کے اندر چھپے ہوئے معانی کو دریافت کرنا یہی اجتہاد ہے۔ اور اسی اجتہادی عمل کے ذریعے اعلیٰ معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 48۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.