Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Insani zindagi ka maqsad.

Urdu · 4 min

انسانی زندگی کا مقصد قرآن کی سورہ الزاریات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ سورہ نمبر 51، آیت 56۔ یعنی میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ اس میں "لیعبدون" کی تشریح عبداللہ ابن عباس نے "لیعرفون" سے کی ہے، یعنی خالق کی معرفت کے لیے۔ یہی بات ایک روایت میں ان الفاظ میں آئی ہے: كُنْتُ كَنْزًا مَخْفِيًّا فَأَرَدْتُ أَنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ کشف الخفا، جلد 2، صفحہ 1011۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی شروع سے آخر تک معرفت کا ایک سفر ہے۔ اس سفرِ معرفت کا ابتدائی حصہ موجودہ دنیا میں گزرتا ہے، اور اس کا انتہائی اور ابدی حصہ آخرت کی دنیا میں گزرے گا۔ معرفت ایک لامتناہی سمندر ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اس لامتناہی سفر کا مسافر بنے، موت سے پہلے کے مرحلہ حیات میں بھی اور موت کے بعد کے مرحلہ حیات میں بھی۔

موجودہ دنیا کے بارے میں قرآن میں آیا ہے: وَأَعْطَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ سورہ نمبر 14، آیت 34۔ یعنی خدا نے تم کو ہر اس چیز میں سے دیا جس کو تم نے اس سے مانگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ وہ معرفت کا سفر طے کرے، لیکن جینے کے سامان کے طور پر اس کو وہ تمام چیزیں دے دی گئی ہیں جن کو "لائف سپورٹ سسٹم" کہا جاتا ہے۔ آخرت کی زندگی بھی حقیقتاً معرفت کی زندگی ہے۔

دنیا کی زندگی میں معرفت کا جو سفر ابتدائی طور پر شروع ہوا تھا، وہ آخرت کی زندگی میں بھی اپنے اعلیٰ ترین صورت میں جاری رہے گا۔ آخرت میں انسان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ خالق کا براہِ راست مشاہدہ کرے، وہ خالق کا شریکِ مجلس بنے، وہ خالق سے کلام کر سکے۔ تاہم آخرت میں انسان خدا کا مہمان بن کر رہے گا۔ دنیا میں زندگی کی جو چیزیں اس کو درجۂ ضرورت میں ملی تھیں، وہ آخرت میں انسان کو درجۂ اجتہا سورہ نمبر 41، آیت 31 میں حاصل ہو جائیں گی۔

کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 46۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.