دیباچہ: زیرِ نظر کتاب کا مشترک موضوع معرفت، یعنی Realization of God ہے۔ اس کتاب میں معرفتِ خداوندی سے متعلق مختلف ابواب شامل کیے گئے ہیں؛ معرفت دین کا خلاصہ ہے، معرفت دین کا آغاز ہے، اور معرفت دین کا اختتام ہے۔ دینِ خداوندی میں معرفت کی حیثیت بیج، یعنی seed کی ہے؛ جس طرح ایک بیج سے پورا درخت بنتا ہے، اسی طرح معرفت سے انسان کی پوری زندگی تشکیل پاتی ہے۔ معرفت کے بغیر دین صرف ایک بے روح فارم، یعنی spiritless form بن جاتا ہے۔
معرفت کے ساتھ دین گویا کہ ہرا بھرا درخت ہے، اور معرفت کے بغیر دین صرف ایک سوکھا درخت۔ دین اگر جسم ہے تو معرفت اس کی روح، یعنی spirit ہے۔ معرفت سے مراد معرفتِ حق ہے؛ حق کی معرفت ایک شعوری دریافت ہے۔ حق کی معرفت کسی قسم کی پراسرار کیفیت کا نام نہیں؛ معرفت کسی انسان کو اندھیرے میں نہیں ملتی، بلکہ معرفت کسی انسان کو اجالے میں ملتی ہے۔
معرفت کے حصول کا ذریعہ مراقبہ، یعنی meditation، نہیں؛ معرفت کے حصول کا صرف ایک ذریعہ ہے، اور وہ غور و فکر، یعنی contemplation ہے۔ معرفت کوئی وجد، یعنی ecstasy، کی نوعیت کی چیز نہیں۔ معرفت تمام تر ایک شعوری واقعہ ہے، نہ کہ کوئی مجہول واقعہ۔ معرفت کا آغاز روحِ تجسس، یعنی seeking spirit، سے ہوتا ہے؛ تلاش ایک ذہنی سفر ہے۔
اگر آدمی کے اندر سنجیدگی، یعنی sincerity، ہو، اگر وہ اپنی تلاش کے معاملے میں حقیقی طور پر دیانت دار، یعنی honest ہو، اگر اس کے اندر منفی سوچ، یعنی negative thinking، نہ پائی جاتی ہو، اگر وہ تعصبات، یعنی prejudices، سے پوری طرح خالی ہو، اگر وہ پورے معنوں میں نفسیاتی پیچیدگیوں سے پاک روح، یعنی complex-free soul، بن چکا ہو، تو اس کے لیے معرفت کا حصول اتنا ہی زیادہ یقینی بن جاتا ہے جتنا کہ سورج نکلنے کے بعد روشنی کا ظہور میں آنا۔ لیکن اسی کے ساتھ حصولِ معرفت کی ایک اور لازمی شرط ہے، اور وہ دعا ہے۔ معرفت ایک دو طرفہ معاملہ ہے؛ اس معاملے میں انسان کی حیثیت معرفت پانے والے کی ہے، اور خدا کی حیثیت معرفت دینے والے کی۔ گویا کہ یہ 50-50 کا معاملہ ہے: خدا کی مدد کے بغیر انسان کو معرفت نہیں مل سکتی۔
انسان کی ہر کوشش اس وقت تک بے نتیجہ رہے گی جب تک خدا کی مدد اس کے ساتھ شامل نہ ہو جائے۔ مزید یہ کہ دعا کسی مجموعۂ الفاظ کو دہرانے کا نام نہیں ہے؛ دعا درحقیقت دل کی تڑپ کا نام ہے۔ دعا ایک داخلی طوفان کا خارجی اظہار ہے۔ معرفت کے بغیر اسلام نہیں، اور دعا کے بغیر معرفت نہیں۔
نئی دہلی، 20 مارچ 2011، وحید الدین، کتاب کتابِ معرفت، صفحہ نمبر 5۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.