الله تعالیٰ نے سورج پيدا كيا، سورج كي پيدائش زمين پر انسان كي آبادي سے بهت پهلے هوئي۔ مگر الله تعالیٰ كو پيشگي طورپر يه معلوم تھا كه سورج كي شعاعوں كا ايك جزء (الٹراوائلٹ) انسان كے ليے مضر هوگا۔ چنانچه الله تعالیٰ نے پيشگي طورپر بالائي فضا ميں ايك محكم حفاظتي انتظام كرديا، جو انسان كو اس مضر شعاع سے بچاتا رهے۔تعالیٰ
دوسري طرف انساني انجينئروں اور سائنس دانوں نے زمين پر ايك انڈسٹري قائم كي۔ اس انڈسٹري سے ايك ايسي گيس نكلنے والي تھي، جو فضاميں بلند هو كر اس حفاظتي انتظام ميں رخنه پيدا كردے، جو انسان كوسورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچانے كے ليے كيا گيا هے۔ مگر انساني ماهرين كو اس كا علم صرف اس وقت هوا، جب كه ان كي انڈسٹري كے يه مضر نتائج عملاً ظهور ميں آگئے، اور انسان ان كا شكار هونے لگا۔
يه تقابلي مثال بتاتي هے كه كائنات كي تخليق نه صرف يه كه ذهن كے بغير نهيں هوسكتي، بلكه انسان جيسي ذهانت بھي اس عملِ تخليق كے ليے ناكافي هے۔ اس كے ليے مافوق ذهانت (سُپَر ذهانت) دركار هے۔ اس قسم كے اعلي ذهن كے بغير موجوده با معني كائنات كبھي وجود ميں نهيں آسكتي۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.