Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Khuda ki Daryaft
Khuda ki Daryaft

درست فریم ورک

Urdu · 2 min read

یہ تصور ہم کو وہ فریم ورک دے دیتا ہے، جس میں زندگی اور کائنات کی ہر چیزاپنی اطمینان بخش توجیہ پاسکے۔ اس تصور سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جنت اور جہنم کیا ہے۔ جنت گویا سنجیدہ اور حق پرست لوگوں کی آرام گاہ ہے اور جہنم گویا سرکش اور باطل پرستوں کا عذاب خانہ۔

اس کے مطابق جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو عالم امتحان(testing ground) کے طورپر بنایا گیا ہے، اور اگلی دنیا کو اپنا انجام پانےکے لیے۔ انسان کو پیدائشی طورپر ابدی مخلوق کی حیثیت سے بنایا گیا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو ہمیشہ زندہ رہنے والی شخصیت عطا ہوئی ہے۔ تاہم انسان کی زندگی گویا آئس برگ کی مانند ہے، جس کا بہت چھوٹا حصہ اوپر دکھائی دیتا ہے، اور اس کا پورا بقیہ وجود سمندر میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔ اسی طرح انسان کی مدتِ عمر (life span) دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس کا بہت چھوٹا حصہ موجودہ دنیا میں رکھا گیا ہے، اور اس کی مدتِ حیات کا زیادہ بڑا حصہ عالم آخرت میں رکھ دیا گیا ہے۔

موجودہ دنیا کی ہر چیز انسان کے لیے امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز اس لیے ہے تاکہ انسان اپنی شخصیت کو مکمل کرے۔ مثال کے طورپر موجودہ دنیا طرح طرح کی تلخیوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ انسان ان تجربات سے گزرتے ہوئے یہ ثبوت دے کہ وہ منفی حالات میں بھی مثبت احساسات کے ساتھ جی سکتا ہے۔ ایسے ہی مثبت شخصیات کے لوگ جنت کی معیاری دنیا میں داخل کیے جائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ ردّ ِعمل کا شکار ہوگئے، اور منفی تجربات کے درمیان خود بھی منفی بن گئے، ایسی منفی شخصیت رکھنے والے لوگوں کوجنت کے لیے نا اہل قرار دیا جائے گا۔ وہ کائناتی کوڑا خانے میں ڈال دیے جائیں گے، جہاں سے وہ کبھی نکل نہ سکیں گے۔

عضویاتی ارتقا کے نظریے کو موجودہ زمانے میں سائنٹفک فیکٹ سمجھا جاتا ہے۔ ایسا اس لیے نہیں ہے کہ عضویاتی ارتقا کے نظریے کے حق میں مشاہداتی دلائل حاصل ہوگئے ہیں۔ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ نظریۂ ارتقا کو ماننے کی صورت میں حیاتیاتی شواہد کی ایک قابلِ فہم توجیہ حاصل ہوجاتی ہے۔ جب کہ علما ئے سائنس کے نزدیک، دوسرا کوئی ایسا نظریہ موجود نہیں جو معلوم حیاتیاتی شواہد کی توجیہ کرتاہو۔ گویا نظریۂ ارتقا ایک قابلِ عمل نظریہ (workable theory) ہے، نہ کہ معروف معنوں میں کوئی ثابت شدہ نظریہ (proved theory)۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.