Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Khuda ki Daryaft
Khuda ki Daryaft

تین علمی اصول

Urdu · 2 min read

جیسا کہ معلوم ہے ، اس طرح کے معاملے میں تین علمی اصول سائنٹفک متھڈ کے تین اجزا ہیں۔ وہ اجزا یہ ہیں— مفروضہ، مشاہدہ، اور تصدیق

Hypothesis, Observation, Verification

اس تین نکاتی فارمولے کو عالم آخرت کے وجود کے معاملے میں استعمال کیا جائے تو ہم یقینی طورپر ایک موافق قرینہ یا ایک تائیدی امکان تک پہنچ جاتے ہیں، اور جیسا کہ عرض کیا گیا، قرینہ یا امکان تک پہنچنے ہی کا دوسرا نام تیقن (certainty) ہے۔

اس موضوع کا مطالعہ کرتے ہوئے پہلا قرینہ یہ سامنے آتا ہے کہ انسان دوسری تمام مخلوقات سے مختلف ہے۔ یہ انسان کی ایک استثنائی صفت ہے کہ وہ کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ انسان کے سوا جمادات اور نباتات اور حیوانات میں سے کوئی بھی نہیں جو اپنے اندر کَل کا تصور رکھتا ہو۔ اس مشاہدہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کے سوا دوسری تمام مخلوقات کی منزل صرف آج ہے۔ اس کے مقابلے میں انسان کی منزل آئندہ آنے والے کَل (tomorrow) سے تعلق رکھتی ہے۔

انسانی جسم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کا جسم ان گنت خلیوں (living cells) سے بنا ہے۔یہ خلیے ہر لمحہ ٹوٹتے رہتے ہیں۔ اس طرح انسان کا جسم بار بار پرانے کے بعد نیا ہوتا رہتا ہے، جیسا کہ بہتے ہوئے دریا کاپانی ہر وقت پرانا اور نیا ہوتا رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی شخصیت اس کے جسم سے الگ ایک مستقل وجود کی حیثیت رکھتی ہے۔ جسم پر موت واقع ہوتی ہے، مگر اس کی روحانی شخصیت بدستور باقی رہتی ہے۔

اسی طرح ہر انسان کے اندر نہایت گہری خواہشیں موجود ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان خواہشات کو طلب کرنے والا ایک حیوان ہے

Man is a desire-seeking animal.

مگر اسی کے ساتھ تجربہ بتاتا ہے کہ کسی بھی انسان کی یہ خواہشیں پوری نہیں ہوتیں۔ ہر انسان اپنی خواہشات کے مطابق اپنے لیے ایک معیاری دنیا بنانا چاہتا ہے مگر ہر انسان جلد ہی مرجاتا ہے، اس سے پہلے کہ اس نے اپنی خواہشوں کے مطابق اپنا مطلوب کل بنایا ہو۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.