Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Khuda ki Daryaft
Khuda ki Daryaft

سائنس سے معرفت تک

Urdu · 1 min read

انسان کی تخلیق کا مقصد قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ (51:56)۔ یعنی میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔لیعبدون کی تفسیر صحابیٔ رسول عبد اللہ بن عباس (المجالسة وجواهر العلم للدینوری، اثر نمبر 225)،اور ان کے شاگرد مجاہد تابعی (وفات104ھ)نے لیعرفون سے کی ہے (وقال مجاہدإلا لیعبدونلیعرفون)البحر المحیط، لأبی حیان الأندلسی، 9/562۔ یعنی اللہ کی عبادت کرنے کا مطلب ہے اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ابن جریج (وفات150 ھ) کے حوالے سے یہی بات نقل کی ہے۔قال ابن جریجإلا لیعرفون (تفسیر ابن کثیر، 7/425)۔ ابن جريج نے کہا تاکہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس معرفت کا تعلق انسان کی ذات سے ہے۔ انسان ایک صاحبِ ارادہ مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی تعریف ان الفاظ میں کی جاتی ہے کہ انسان کے اندر تصوراتی سوچ (conceptual thinking) کی صلاحیت ہے۔ یہ ایک ایسی صلاحیت ہے، جو انسان کے علاوہ کسی دوسری معلوم مخلوق کو حاصل نہیں۔انسان کے لیے معرفت کا تعین اسی خصوصی صلاحیت بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس اعتبار سے انسان کے لیے معرفت کا معیار خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) ہے۔ یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے سوچنے کی طاقت (thinking power) کو ڈیولپ کرے۔ یہاں تک کہ وہ اس قابل ہوجائے کہ وہ سیلف ڈسکوری کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرلے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content