← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Talaaq ki do suratein
Urdu · 8 min
طلاق کی دو صورتیں: عملی اعتبار سے طلاق کی دو صورتیں، ایک وقتی جذبے کے تحت طلاق، دوسری مستقل فیصلے کے تحت طلاق؛ دونوں کی نوعیت ایک دوسرے سے الگ ہے۔ خاندانی زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ تلخیاں اور ناخوشگواریاں پیش آتی ہیں۔ یہ تلخیاں اور ناخوشگواریاں اجتماعی زندگی کا لازمی حصہ ہیں؛ ان کو کسی حال میں بھی اجتماعی زندگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ناخوشگواریاں جب سامنے آتی ہیں تو سمجھدار آدمی صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کرتا ہے، یا سخت الفاظ بول کر اپنے دل کے طوفان کے لیے نکاس یعنی آؤٹ لیٹ کا راستہ تلاش کر لیتا ہے۔
اس طرح خاندانی زندگی میں کوئی واقعی پیچیدگی پیدا ہونے نہیں پاتی، مگر نادان یا جھوٹے پندار میں مبتلا ہونے والے لوگ نہ صبر کر پاتے اور نہ سخت الفاظ بول کر ان کے دل کو تسکین ہوتی ہے۔ وہ اپنے غصے کے مکمل اظہار یا فریق ثانی کو آخری سزا دینے کے لیے فوراً کہہ بیٹھتے ہیں: "تم کو طلاق، طلاق، طلاق! " اس قسم کی طلاق درحقیقت غیض و غضب کے اظہار کی انتہائی صورت ہے، جو ان لوگوں کے اندر ظاہر ہوتی ہے جو اپنے جذبات کو تھامنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں۔ مسٹر قریشی کا واقعہ جو اخبارات میں آیا تھا، وہ اسی کی مثال ہے۔
دیکھیے، کتاب ھذا کا صفحہ 230، غیر فینل صفحہ۔ اگر وہ وقتی نہ ہوتا تو مسٹر قریشی نادرہ بیگم کو دوبارہ اپنی زوجیت میں لینے کا ارادہ ظاہر نہ کرتے۔ ٹائمز آف انڈیا، یکم مئی 1986۔ اسلام کا مقرر کردہ تاریخِ طلاق اس برائی کو روکنے کی انتہائی کامیاب فطری تدبیر ہے۔
اسلام کا یہ طریقہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: "الطلاق مرتان فإمساكٌ بمعروف أو تصريحٌ بإحسان" سورہ نمبر 2، آیت 229۔ یعنی طلاق دو بار ہے: پھر یا تو معروف کے مطابق عورت کو روک لینا ہے، یا اچھے طریقے سے اس کو رخصت کر دینا ہے۔ أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجلٌ فقال يا رسول الله أرأيتَ قولَ الله تعالى "الطلاق مرتان فأين الثالثة" قال: "فإمساكٌ بمعروف أو تصريحٌ بإحسان هي الثالثة" مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر 19216۔ یعنی ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول، اللہ نے طلاق کی آیت میں دو بار کا ذکر کیا ہے، پھر تیسری بار کہاں ہے؟
آپ نے فرمایا کہ معروف کے ساتھ روک لینا، یا احسان کے ساتھ رخصت کرنا، یہی تیسرا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی شخص کے دل میں اپنی بیوی کو طلاق دینے کا خیال آئے تو اس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ ایک ہی بار آخری طلاق دے کر اسے رخصت کر دے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ طلاق دینے کے عمل کو 3 مہینے کی مدت میں مکمل کرے۔ طلاق دینے والے کو چاہیے کہ وہ الگ الگ دو طہر یعنی پاکی میں دو مرتبہ طلاق دے، اور پھر تیسری طہر میں یا تو رجوع کرے، اور اگر وہ رجوع کرنا نہیں چاہتا تو تیسری بار طلاق دے کر اسے رخصت کر دے۔
اگر آدمی کے دل میں طلاق دینے کا خیال اس وقت آیا ہو جبکہ عورت حیض کے ایام سے گزر رہی ہو، تو اس وقت طلاق دینا درست نہیں۔ مرد کو انتظار کرنا چاہیے کہ عورت حیض سے فارغ ہو کر معتدل حالت میں آ جائے، جس کو پاکی کا دور یا طہر کہا جاتا ہے۔ اس وقت آدمی اپنی عورت سے کہے کہ میں تم کو ایک طلاق دیتا ہوں۔ اس کے بعد بھی عورت اس کے گھر میں رہے گی، اور مرد دوسرے طہر کا انتظار کرے گا۔
اگلے مہینہ جب دوسرے طہر کا زمانہ آئے تو اس وقت مرد کہے کہ میں تم کو دوسری بار طلاق دیتا ہوں۔ اب پھر مرد اگلے مہینے کے زمانہ طہر کا انتظار کرے۔ تیسرے مہینے میں جب طہر کا زمانہ آ جائے، اس وقت مرد یا تو اپنے سابقہ طلاق کو واپس لے اور عورت کو دوبارہ اپنی بیوی بنا لے، یا تیسری بار طلاق دے کر اسے عزت کے ساتھ رخصت کر دے۔ طلاق بذاتِ خود اسلام میں سخت ناپسندیدہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض حلال طلاق ہے۔ "ابغض الحلال إلى الله الطلاق" سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2178۔ اس کے بعد اگر آدمی ایسا کرے کہ وہ ایک ہی وقت میں تین طلاق دے دے، تو یہ حد درجہ سرکشی کی بات ہے۔ شریعت میں اس کو بے حد برا قرار دیا گیا ہے۔
حضرت عمر کے بارے میں مروی ہے کہ جب ان کے پاس ایسا شخص لایا جاتا جس نے اپنی عورت کو بیک وقت تین طلاق دی ہوں، تو وہ اس کی پیٹھ پر کوڑا مارتے تھے۔ وكان عمر إذا أتي برجل طلق امرأته ثلاثًا أو جعل ظهره سنن سعید ابن منصور، جلد 1، صفحہ 302۔ جو شخص نکاح و طلاق کے معاملے میں اسلام کے اصول پر چلنا چاہے، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ مذکورہ اصول کی پابندی کرے۔ تین طہر میں طلاق دینے کا یہ طریقہ حد درجہ فطری اور مناسب ہے۔
اس طریقے میں وہ تمام طلاق اپنے آپ ختم ہو جاتے ہیں جو وقتی جذبے کے تحت پیدا ہوئے ہوں۔ غصہ اور جوش میں اگر آدمی کے اندر طلاق کا ارادہ پیدا ہو گیا، غصہ اور جوش میں اگر آدمی کے اندر طلاق کا ارادہ پیدا ہو گیا ہو، تو وہ ایک مہینہ یا دو مہینے میں اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ ذہن میں اعتدال آتے ہی آدمی اپنے پچھلے جذبے پر پچھتائے گا، اور اس سے رجوع کر کے اپنی بیوی سے دوبارہ تعلقات درست کر لے گا۔ البتہ اگر طلاق کا سبب بہت زیادہ بنیادی ہو اور آدمی نے سوچ سمجھ کر علیحدگی کا فیصلہ کیا ہو، تو وہ دو مہینہ گزرنے کے بعد بھی اپنے فیصلے پر باقی رہے گا۔
اس کے بعد جب تیسرے مہینہ وہ آخری بار جدائی کا اعلان کرے گا تو وہ حقیقی جدائی ہوگی۔ وہ مصنوعی جدائی نہ ہوگی جس پر آدمی ساری عمر افسوس کرتا رہے۔ کتاب خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 286۔