Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Dardnaak anjaam

Urdu · 9 min

دردناک انجام۔ "پلین ٹروتھ" یعنی "دی پلین ٹروتھ" ایک مشہور امریکی میگزین ہے، وہ 78,50,000 کی تعداد میں چھپ کر ساری دنیا میں بھیجا جاتا ہے۔ اس ماہ نامے کی اشاعت ستمبر 1986 میں، صفِ اول پر ایک امریکی لڑکی کی تصویر ہے جو حیرانی کے عالم میں بیٹھی ہوئی ہے۔ اس لڑکی کا نام سالی ہے۔

میگزین میں اس لڑکی کا ایک خط شائع ہوا ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا خط ہے، مگر وہ جتنا چھوٹا ہے، اتنا ہی زیادہ وہ دردناک ہے۔ وہ مختصر خط ہے: "When I was 8 years old, I first had sex with a boy of 15. I did it because I lack love and attention from my parents.

I need love, and my parents never show me any. Nothing really changed at home. And at 15 I became pregnant. My boyfriend blamed me and left.

I had nowhere to turn. I was trapped, so I had an abortion. Now I am afraid to date anyone, and I cry myself to sleep every night." Page 5. ترجمہ: جب میری عمر 8 سال تھی، اس وقت میں نے پہلی بار ایک 15 سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی فعل کیا۔

میں نے ایسا اس لیے کیا کہ میں اپنے والدین کی طرف سے محبت اور توجہ پانے سے محروم تھی۔ مجھے محبت کی ضرورت تھی، مگر مجھے کبھی اپنے والدین کی محبت نہ مل سکی۔ یعنی میرے اس حال کے باوجود گھر کے اندر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اور میں 15 سال کی عمر میں حاملہ ہو گئی۔

میرے دوست لڑکے نے مجھ کو ملزم ٹھہرایا اور مجھ کو چھوڑ دیا۔ کوئی صورت میرے لیے باقی نہ رہی۔ میں پھنس کر رہ گئی۔ چنانچہ میں نے حمل ساکت کرا لیا۔

اب میں کسی لڑکے سے تعلق قائم کرنے سے ڈرتی ہوں۔ ہر رات کو میں روتی رہتی ہوں، یہاں تک کہ سو جاتی ہوں۔ یعنی امریکہ میں ہر 2 منٹ میں ایک کم عمر لڑکی حاملہ ہو جاتی۔ "پلین ٹروتھ" کے مذکورہ شمارے میں نیویارک کے اخبار نویس جاری ڈان کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں 15 سے 19 سال کے درمیان کی ہر 1000 لڑکیوں میں 96 لڑکیاں حاملہ پائی گئی ہیں۔

صفحہ 6۔ یہ انجام ہے فطرت سے انحراف کرنے کا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مرد اور عورت کی شکل میں بنایا، پھر مرد اور عورت کے تعلق کا ایک نظام مقرر کیا۔ وہ نظام یہ ہے کہ مرد اور عورت ایک خاص عمر کو پہنچ کر نکاح کر لیں، پھر وہ مل کر ایک گھر بنائیں، اپنے بچوں کی تربیت اور پرورش کریں۔

اس طرح انسانی نسل چلائی جائے۔ مگر جدید مغرب نے آزادی کے تصور کو اتنا بڑھایا کہ عورت اور مرد کے باہمی تعلق کو بھی ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد کر دیا۔ اس نتیجے میں مغرب کے معاشرے میں بے شمار خرابیاں پیدا ہو گئیں، جن میں سے ایک وہ ہے جس کی ایک مثال اوپر کے واقعے میں نظر آتی ہے۔ عورت اور مرد کے درمیان آزادانہ اختلاط اور بے خیر تعلق فطرت کے سراسر خلاف ہے۔

صنفی معاملے میں عورت وحدت کو پسند کرتی ہے، جبکہ مرد کا معاملہ طبعاً کسی قدر مختلف ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آزادانہ صنفی تعلق، وفادارانہ صنفی تعلق میں معنی بن جاتا ہے، جو مرد سے زیادہ عورت کے لیے نفسیاتی ہلاکت کے ہم معنی ہے۔ اس کی سب سے زیادہ قیمت عورت کو بھگتنی پڑتی ہے۔ آسٹریلیا کی مشہور آزادی پسند خاتون، مس جرمین گریئر، نے بڑی عمر کو پہنچ کر یہ اعتراف کیا ہے کہ نوجوانی کی عمر میں آزادی نسواں کے لیے ان کا جوش و خروش حقیقت پسندانہ نہ تھا۔

انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا: "What is worrying today is the results of the sexual liberation movement. The number of teenage girls who have been on the pill since they were 12 and 13. The number of teenage girls who get pregnant by the time they are 15 and 16. What is happening to them.

Sex means something quite different for men. They can love and live when the time comes to go to university. They can take off quite easily. Women have a different sensibility.

They love with their heads, hearts and loins, and a broken love affair leaves them quite shattered. I have seen it happen to people close to me, and it is terrible." انڈین ایکسپریس، 14 جنوری 1987۔ آج جو چیز پریشان کن ہے، وہ آزاد صنفی تحریک کے نتائج ہیں۔ کم عمر لڑکیاں جو 12 اور 13 سال کی عمر میں مانع حمل گولیاں استعمال کرنے لگتی ہیں۔

اور وہ لڑکیاں جو 15 اور 16 سال کی عمر میں حاملہ ہو جاتی ہیں، ان کے ساتھ کیا بیت رہی ہے؟ صنفی تعلق مرد کے لیے کافی مختلف معنی رکھتا ہے۔ وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ محبت کریں اور چھوڑ دیں۔ جب یونیورسٹی جانے کا وقت آتا ہے تو وہ نہایت آسانی سے روانہ ہو سکتے ہیں۔

عورتیں مرد سے مختلف حساسیت رکھتی ہیں۔ وہ اپنے دماغ، اپنے دل اور اپنے وجود کے ساتھ محبت کرتی ہیں۔ ایک ٹوٹا ہوا محبت کا رشتہ انہیں بالکل توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ میں یہ بات اپنے قریب کے لوگوں میں ہوتے ہوئے دیکھی ہے۔

اور یہ دہشت ناک ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی سوسائٹی میں بھی بگاڑ پایا جاتا ہے، اور مغرب کی سوسائٹی میں بھی۔ مگر دونوں میں ایک فرق ہے۔ مسلمانوں کا بگاڑ اسلامی اصولوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، جبکہ مغربی سماج کا بگاڑ خود ان کے اصولوں پر عمل کی پیداوار ہے۔

کتاب "خاتون اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 136۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.