Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Khandaani zindagi
Khandaani zindagi

ساس بہو کا مسئلہ

Urdu · 3 min

ساس بہو کا روایتی مسئلہ تقریباً ہر گھر میں پایا جاتا ہے، مگر یہ کوئی حقیقی مسئلہ نہیں۔ یہ مسئلہ تمام تر ایک غیر فطری نفسیات کے تحت پیدا ہوا۔ نفسیاتی مسئلہ ہمیشہ سوچ کی سطح پر پیدا ہوتا ہے، اور سوچ کی سطح پر نہایت آسانی سے اس کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً ایک گھر ہے، وہاں ایک چارپائی بچھی ہوئی ہے، ماں اس چارپائی کے اوپر بیٹھی ہوئی ہے۔

اس وقت اگر بیٹی وہاں آئے اور وہ بے تکلفی کے ساتھ لیٹ جائے تو اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ماں چارپائی پر بیٹھی ہے اور بہو وہاں آ کر لیٹ جائے تو ایسا واقعہ فوراً ایک مسئلہ بن جائے گا۔ اب کہا جائے کہ بہو بہت بدتمیز ہے، اس کے ماں باپ نے اس کو ادب نہیں سکھایا، وغیرہ۔ اس صورتحال کی ذمہ داری ماں اور بہو دونوں پر عائد ہوتی ہے۔

ماں اگر اپنی بہو کو اپنی بیٹی سمجھے، اور بہو اگر اپنی ساس کو اپنی ماں جیسا درجہ دے، تو یہ سارا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ اور ساس اور بہو اسی طرح خوشگوار ماحول میں رہنے لگیں گی، جس طرح ماں اور بیٹی خوشگوار ماحول میں رہتی ہیں۔ یہ فطرت کا ایک نظام ہے کہ ہر بیٹی کو آخر کار بہو بن کر رہنا پڑتا ہے، اور ہر ماں کے ساتھ ایسا پیش آتا ہے کہ وہ ساس بن کر اپنے گھر میں رہے۔ یہ خالق کا بنایا ہوا فطری نظام ہے۔

ہر عورت اور ہر لڑکی کو اس نظام کے ساتھ موافقت کرنا چاہیے۔ جو عورت اور جو لڑکی اس نظام کے ساتھ موافقت نہ کرے، وہ گویا کہ اپنے خالق کے ساتھ سرکشی کر رہی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.