Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Khandaani zindagi
Khandaani zindagi

لاٹ پیار کا نقصان

Urdu · 3 min

لڑکی کے والدین کی سوچ عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ ان کی لڑکی جب سسرال جائے گی تو وہاں اس کو گھر کے سب کام کرنے پڑیں گے، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اپنے یہاں وہ اپنی لڑکی سے کوئی کام نہ کرائیں۔ حالانکہ جو لڑکی اپنے میکے میں کام نہ سیکھے یا کام کی عادی نہ بنے، وہ سسرال پہنچتے ہی اچانک ایسی نہیں ہو جائے گی کہ وہ زوردار طور پر سارے کام کرنے لگے۔ والدین کا یہ طریقہ ایک جھوٹا لاٹ پیار ہے، وہ سچی محبت کا طریقہ نہیں۔

میں نے ایسے والدین دیکھے ہیں جو بچی کے پیدا ہوتے ہی اس کے لیے جہیز کا سامان تیار کرنے لگتے ہیں، مگر یہ صرف ایک نادانی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ کبھی کوئی جہیز لڑکی کی زندگی میں اس کے کام نہیں آتا، ہر جہیز صرف ایک وقتی نمائش ہے۔ وہ کسی بھی درجے میں لڑکی کی زندگی کی تعمیر کا کوئی ذریعہ نہیں۔ تعمیر کا تعلق تیاری سے ہے، نہ کہ نمائش سے۔

والدین کا اصل کام جہیز کی تیاری نہیں، بلکہ ان کا اصل کام یہ ہے کہ وہ خود لڑکی کو تیار کریں۔ وہ اپنی لڑکی کو اعلیٰ تعلیم دلائیں، وہ اپنی لڑکی کی اچھی تربیت کریں، وہ اپنی لڑکی کو عملی زندگی کے آداب سکھائیں۔ وہ اپنی لڑکی کے اندر وہ دانشمندانہ مزاج پیدا کریں جو اجتماعی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے۔ لاٹ پیار یعنی پیمپرنگ ایک پورے کلچر کا نام ہے۔

اس کا اظہار ہر معاملے میں ہوتا ہے۔ مثلاً بچے کی ہر خواہش پوری کرنا، بچے کی ہر غلطی کو یہ کہہ کر ٹال دینا کہ "ابھی بچہ ہے، بڑا ہونے پر ٹھیک ہو جائے گا"۔ اپنی اولاد کو معصوم سمجھنا اور ہر معاملے میں دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانا۔ کھانے پینے کے معاملے میں بچے کی ہر مانگ پوری کرنا، خواہ اس کی صحت خراب ہو جائے۔

بچے کو کوئی کام نہ کرنے دینا۔ اپنے بچے کو ہمیشہ اچھا سمجھنا اور دوسروں کو غلط بتانا۔ اپنے بچے کو آرام کا عادی بنانا۔ اپنی اولاد کو زندگی کی جدوجہد سے دور رکھنا۔

جھوٹی محبت کی بنا پر بچوں کے لیے ہر فیشن کی چیز فراہم کرنا، ان کو بچپن ہی سے فیشن کا عادی بنانا وغیرہ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.