مرد اپنی فطرت کے اعتبار سے انانیت پسند ہے، اور عورت اپنی فطرت کے اعتبار سے جذباتی ہے۔ اسی فرق کی بنا پر اکثر دونوں میں جھگڑا کھڑا ہو جاتا ہے۔ دونوں کے درمیان اس فرق کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ جب مرد کی انا بھڑکے تو عورت خاموش ہو جائے، اور جب عورت کے جذبات بھڑکیں تو مرد خاموشی اختیار کر لے۔
دونوں میں سے کوئی بھی ردعمل کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ اس کے سوا اس مسئلے کا کوئی اور حل سرے سے ممکن ہی نہیں۔ ہر منفی جذبہ، مثلاً غصے وغیرہ کا معاملہ یہ ہے کہ جب وہ بھڑکتا ہے تو وہ اپنے آپ بھڑکتا ہے، لیکن ابتدائی طور پر وہ ایک حد کے اندر رہتا ہے۔ حد سے آگے جانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ اس کو کوئی بڑھاوا، یعنی بوسٹ دینے والا، بڑھاوا دے۔
یہ بڑھاوا دینے والا خود کوئی انسان ہوتا ہے۔ اگر آدمی اپنی طرف سے بوسٹ فراہم نہ کرے تو ہر منفی جذبہ تھوڑی دیر کے بعد اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ منفی جذبے کے بارے میں فطرت کا قانون یہ ہے کہ وہ پیدا ہونے کے بعد 30 سیکنڈ تک اوپر کی طرف جاتا ہے۔ اس کے بعد اگر اس کو مزید بوسٹ نہ ملے تو 30 سیکنڈ کے بعد وہ فطری طور پر نیچے کی طرف جانے لگتا ہے۔
شوہر اور بیوی دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ فطرت کے اس قانون کو سمجھیں جس کو ہم نے 30 سیکنڈ کا فارمولا، یعنی فارمولا آف تھرٹی سیکنڈز، کہا ہے۔ فطرت کے اس قانون کو جاننا شادی شدہ زندگی کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ جو شوہر اور بیوی اس قانون کو جان لیں، ان کی زندگی میں کبھی ایسا بحران، یعنی کرائسز، نہیں آئے گا جو بڑھ کر بریک ڈاؤن تک پہنچ جائے۔ خالق نے فطرت کے اندر تمام ضروری تحفظات، یعنی سیف گارڈ، رکھ دیے ہیں۔
کسی عورت یا مرد کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ فطرت کے اندر پہلے سے موجود ان تحفظات کو جانے اور ان کو اپنی عملی زندگی میں استعمال کرے۔ فطرت کا طریقہ یہ ہے کہ وہ خاموش زبان میں بولتی ہے۔ جو لوگ خاموش زبان کو سننے کی استعداد رکھتے ہوں، وہی لوگ فطرت کی اس آواز کو سنیں گے اور اس سے فائدہ اٹھا کر اپنی زندگی کو کامیاب بنائیں گے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.