Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Khandaani zindagi
Khandaani zindagi

زوجین کے درمیان کامل مطابقت

Urdu · 4 min

ایک عورت اور ایک مرد جب نکاح کے بعد ایک دوسرے کے ساتھی بنتے ہیں، تو یہ اجتماع ساری کائنات کا سب سے زیادہ انوکھا واقعہ ہوتا ہے۔ وسیع کائنات میں ان گنت چیزیں ہیں؛ یہاں کی اکثر چیزیں جوڑے، یعنی پیئر کی صورت میں ہیں، مگر کسی بھی دو چیز کے درمیان وہ کامل مطابقت، یعنی کمپلیٹ کمپیٹیبلٹی، نہیں جو عورت اور مرد کے درمیان پائی جاتی ہے۔ جب ایک عورت اور ایک مرد جیون ساتھی بن کر ایک دوسرے سے ملتے ہیں، تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں شعوری منصوبے کے تحت ایک دوسرے کے لیے بنائے گئے تھے۔ زوجین کے درمیان یہ شعور اگر زندہ ہو تو دونوں ایک دوسرے کو پا کر شکر کے جذبات میں سرشار ہو جائیں، دونوں احتزاز یعنی تھرل کے درجے میں ایک دوسرے کو اپنے لیے نعمت سمجھیں۔

یہ احتزاز اتنا زیادہ طاقتور ہو کہ کبھی ان سے جدا نہ ہو؛ دونوں ایک ساتھ اس طرح رہیں جیسے کہ دونوں کو ان کی سب سے زیادہ محبوب چیز مل گئی ہو۔ دونوں آخری حد تک مثبت احساس میں جینے لگیں۔ دنیا میں اگر صرف عورتیں ہوں اور کوئی مرد وہاں موجود نہ ہو، اسی طرح اگر ایسا ہو کہ صرف مرد ہوں اور کوئی عورت موجود نہ ہو، تو ایک ایسی دنیا میں بظاہر زندگی ہوگی مگر وہ خوشیوں سے خالی ہوگی۔ ایسی دنیا میں ہر طرف ایک ایسی کمی کا احساس چھایا رہے گا جو کبھی اور کسی حال میں ختم نہ ہوگا۔

صرف مردوں کی دنیا بھی ایک بے معنی دنیا ہے، اور صرف عورتوں کی دنیا بھی ایک بے معنی دنیا۔ موجودہ دنیا اسی لیے ایک بامعنی دنیا ہے کہ یہاں عورت اور مرد دونوں موجود ہیں۔ عورت اور مرد اگر اس حقیقت پر غور کریں تو انہیں اس سے بھی زیادہ خوشی حاصل ہو جو کسی سائنسدان کو ایک نئی چیز کی دریافت سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف شکایت کی بات ان کو آخری حد تک بے معنی دکھائی دینے لگے۔

حقیقت یہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں تخلیق کا شاہکار ہیں؛ نکاح کا مطلب دو تخلیقی شاہکاروں کی یکجائی ہے۔ اس سے بڑا واقعہ پوری معلوم کائنات میں کوئی دوسرا نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.