Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam kya hai
Islam kya hai

Khudai tariqa

Urdu · 3 min

خدائی طریقہ: کائنات میں ان گنت ستارے اور سیارے ہیں، یہ سب کے سب وسیع خلا کے اندر ہر لمحہ گھوم رہے ہیں۔ خلا گویا کہ لاتعداد متحرک اجسام کی دوڑ کا ایک عطا میدان ہے۔ مگر حیرت ناک بات ہے کہ ان ستاروں اور سیاروں میں کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ اسی کا اس کا راز کیا ہے؟

اس کا راز یہ ہے کہ ہر ستارہ اور ہر سیارہ نہایت پابندی کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں گھومتا ہے۔ وہ اپنے مدار سے ذرا بھی باہر نہیں جاتا۔ حرکت کا یہی قانون ہے جو ان ستاروں اور سیاروں کو آپس میں ٹکرانے سے مسلسل روکے ہوئے ہے۔ ٹھیک یہی طریقہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔

انسان کی دوڑ کے لیے بھی خدا نے ایک دائرہ مقرر کر دیا ہے: ہر انسان کو اسی محدود دائرے کے اندر حرکت کرنا ہے۔ جب تمام انسان اپنے اپنے دائرے میں حرکت کریں تو سماج میں اپنے آپ امن کی حالت قائم ہو جاتی ہے۔ اور جب لوگ اپنی حد میں نہ رہیں بلکہ مقرر حد کو توڑ کر ادھر ادھر دوڑنے لگیں تو ایسے سماج میں لازماً نزاع شروع ہو جائے گی۔ لوگ ایک دوسرے سے ٹکرا کر اپنے آپ کو بھی تباہ کریں گے اور دوسرے کی تباہی کا بھی سامان فراہم کریں گے۔

انسان اجتماعی زندگی میں کس طرح رہے؟ وہ دوسروں کے ساتھ کس طرح معاملہ کرے؟ دوسروں کے ساتھ اس کا سلوک کیسا ہو؟ اپنے قول و عمل میں وہ کیا انداز اختیار کرے؟

ان سب باتوں کے لیے خدا نے واضح احکام دیے ہیں۔ اس نے بتا دیا ہے کہ انسان کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ جو لوگ زندگی کے معاملات میں وہ کریں جس کی خدا نے ان کو اجازت دی ہے، وہ گویا کہ اپنے مقرر دائرے کے اندر حرکت کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ وہ کچھ کرنے لگیں جس سے خدا نے روکا ہے، تو وہ گویا کہ اپنے مقرر دائرے سے باہر آ گئے۔

یہی وہ لوگ ہیں جو سماج میں ہر قسم کی خرابیاں پیدا کرتے ہیں۔ وہ خود بھی تباہ ہوتے ہیں اور سماج کی تباہی کا بھی سبب بنتے ہیں۔ سچا انسان وہ ہے جو خدا کے مقرر کیے ہوئے دائرے میں رہتے ہوئے زندگی گزارے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو دنیا میں بھی خدا کی رحمتیں پائیں گے اور آخرت میں بھی خدا کی ابدی رحمتوں سے سرفراز کیے جائیں گے۔

کتاب اسلام کیا ہے؟ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 52۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.