Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam kya hai
Islam kya hai

Khidmat-e-khalq

Urdu · 3 min

خدمتِ خلق۔ مومن کے اندر جو اعلیٰ جذبات ہونے چاہئیں، ان میں سے ایک خدمتِ خلق ہے، یعنی خدا کی مخلوق کے کام آنا۔ لوگوں کی ضروریات کو پوری کرنا، کسی صلے کی امید نہ رکھتے ہوئے، ہر ایک کی حاجتیں پوری کرنا۔ دوسروں کے کام آنا دراصل اپنے حق میں خدائی نعمت کا اعتراف کرنا ہے۔

وہی شخص دوسروں کے کام آتا ہے جس کے اندر دوسروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ صفات پائی جا رہی ہوں۔ مثلاً آنکھ والے آدمی کا ایک بے آنکھ والے کے کام آنا، ایک تندرست آدمی کا کسی معذور کے کام آنا، ایک صاحبِ مال کا بے مال آدمی کے کام آنا، ایک صاحبِ حیثیت آدمی کا کسی بے حیثیت آدمی کے کام آنا۔ ایسے ہر موقع پر جب خدا کی دی ہوئی اپنی کسی حیثیت کی بنا پر آدمی کسی کی مدد کرتا ہے، تو وہ ایسا کر کے خدا کے احسان کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ خاموش زبان میں کہہ رہا ہوتا ہے کہ خدایا، جو کچھ میرے پاس ہے وہ تیرا ہی دیا ہوا ہے، اب میں دوبارہ اس کو تیری ہی راہ میں خرچ کر رہا ہوں۔

تو ہم دونوں کے لیے اپنی مزید رحمتیں اور برکتیں لکھ دے۔ خدمتِ خلق کا کام کر کے آدمی صرف دوسرے کی مدد نہیں کرتا، بلکہ خود اپنی حیثیت کو بڑھاتا ہے۔ ملی ہوئی چیز کو صرف اپنے لیے استعمال کرنا گویا کہ حیوانی سطح پر جینا ہے، کیونکہ حیوان بھی یہی کرتا ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے صرف اس کا ہے، اس میں کسی اور حیوان کا حصہ نہیں۔ مگر انسان کی سطح اس سے بلند ہے۔

انسان تمام مخلوقات میں سب سے افضل ہے۔ انسان کی اعلیٰ سطح کے مطابق جو رویہ ہے، وہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے خول میں بند ہو کر نہ جیے، بلکہ ساری انسانیت کو اپنے اندر سمیٹ لے۔ وہ دنیا میں اس طرح زندگی گزارے کہ وہ دوسروں کا خیر خواہ بنا ہوا ہو، دوسروں کی خدمت کرنے کے لیے تیار رہتا ہو۔ وہ اپنے اثاثے میں دوسروں کا حق بھی تسلیم کرے۔

خدمتِ خلق دوسرے لفظوں میں خدمتِ انسانیت ہے، اور خدا کی عبادت کے بعد خدمتِ انسانیت سے بڑا کوئی اور کام نہیں۔ کتاب اسلام کیا ہے؟ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 39۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.