تدبیرِ کار: حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بہتر عقل تدبیر کرنا ہے، اور سب سے بہتر پرہیزگاری رک جانا ہے۔ لا عقل كالتدبير ولا ورع كالكف. ابن ماجہ کتاب الزہد: جب کوئی ناخوشگوار صورتحال پیش آئے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ جذبات سے بھڑک اٹھتے ہیں اور فوری طور پر جوابی کارروائی شروع کر دیتے ہیں، مگر یہ نہ عقل ہے اور نہ پرہیزگاری۔ بہتر اور کامیاب طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی سوجھ بوجھ کو استعمال کرے اور پیش آمدہ صورتحال کے مقابلے میں کوئی ایسی تدبیر تلاش کرے جس سے مقابلہ آرائی کے بغیر مسئلہ حل ہوتا ہو۔
کوئی مسئلہ، خواہ بظاہر وہ کتنا ہی زیادہ سنگین نظر آتا ہو، وہ وقتی ہوتا ہے؛ فوری نوعیت کی جوابی کارروائی صرف اس کی پیچیدگی کو بڑھاتی ہے اور اس کی مدت کو غیر ضروری طور پر لمبا کر دیتی ہے۔ اس کے برعکس، تدبیر کا انداز براہِ راست یا بالواسطہ انداز میں اس کی شدت کو ختم کر دیتا ہے؛ اس کو بڑھنے کے بجائے گھٹنے کی طرف ڈال کر ایسا بنا دیتا ہے کہ دھیرے دھیرے وہ اپنے آپ ختم ہو جائے۔ اسی طرح بعض اوقات ناخوشگوار صورتحال کے خلاف اقدام نہ کرنا سب سے بڑا اقدام ہوتا ہے، اور کارروائی نہ کرنا سب سے بڑی کارروائی۔ جس آدمی کے اندر سچی پرہیزگاری موجود ہو، وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہیں ہوگا؛ مخالف کی مخالفانہ کارروائی کے باوجود اس کے اندر انتقام کی آگ نہیں بھڑکے گی، وہ یکطرفہ طور پر ٹھنڈا بنا رہے گا۔
اپنی اس نفسیات کی بنا پر وہ جان لے گا کہ مجھ کو صرف یہ کرنا ہے کہ میں کچھ نہ کروں۔ میری طرف سے مؤثر جوابی کارروائی صرف یہ ہے کہ میں ایک طرفہ طور پر خاموشی اختیار کر لوں۔ عقل آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ معاملے کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھے۔ ایسا آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ مخالف کے توڑ کے لیے زیادہ مؤثر تدبیر کر سکے۔
اسی طرح، جس آدمی کے اندر سچی پرہیزگاری ہو، وہ رکنے کی حکمت کو جان لیتا ہے؛ وہ اس راز سے واقف ہو جاتا ہے کہ کبھی نہ کرنے کا نام کرنا ہوتا ہے اور نہ بولنے کا نام بولنا۔ جو آدمی اپنی عقل کو صحیح طور پر استعمال کرے، وہ ہر صورتحال کے مقابلے کے لیے کوئی نہ کوئی مؤثر تدبیر تلاش کر لے گا، خواہ وہ صورتحال بظاہر کتنی ہی زیادہ سنگین کیوں نہ ہو۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 268۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.