"حدیدی کردار"۔ لقد أرسلنا رسلنا بالبينات، وأنزلنا معهم الكتاب والميزان ليقوم الناس بالقسط، وأنزلنا الحديد فيه بأس شديد ومنافع للناس، وليعلم الله من ينصره ورسله بالغيب، إن الله قوي عزيز. "الحدید"۔ ہم نے اپنے رسول بھیجے، نشانیوں کے ساتھ، اور ان کے ساتھ کتاب اور ترازو اتارا، تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت طاقت ہے، اور لوگوں کے لیے فائدہ ہے، اور تاکہ اللہ جان لے کہ کون مدد کرتا ہے اللہ اور رسول کی بن دیکھے، بے شک اللہ قوی اور زبردست ہے۔
موجودہ دنیا کو خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں مادی چیزیں انسانی اخلاقیات کے لیے تمثیل کا کام کرتی ہیں، اوپر کی آیت میں اس سلسلے میں دو چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے: ایک میزان یعنی ترازو، اور دوسرے حدید یعنی لوہا۔ ترازو کیا کام کرتا ہے؟ ترازو تولنے کا ذریعہ ہے، کسی چیز کے متعلق جاننا ہو کہ وہ وزن میں پوری ہے یا کم ہے، تو اس کو ترازو میں رکھ کر تولتے ہیں، اس سے اس کی حالت پوری طرح معلوم ہو جاتی ہے۔ خدا کی کتاب اسی طرح انسانی اخلاقیات کے لیے ترازو ہے۔
عام ترازو چیزوں کے وزن کو بتاتا ہے، اور خدا کی کتاب اعمال کے صحیح یا غلط ہونے کو۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا رویہ موجودہ دنیا میں درست رہے تاکہ وہ آخرت کی کامیابی حاصل کرے، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ خدا کی ترازو سے اپنے قول و عمل کو تولتا رہے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو وہ اگلی دنیا میں ناکام و نامراد ہو کر رہ جائے گا۔ دوسری تمثیل حدید یعنی لوہے کی ہے۔
حدید کی معروف حیثیت کیا ہے؟ وہ قابلِ اعتماد شدت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ جس پل یا عمارت کو لوہے پر کھڑا کیا جائے، اس کے بارے میں پورا اعتماد رہتا ہے کہ وہ طوفانوں کے مقابلے میں بھی پوری طرح قائم رہے گی۔ اسی قسم کے انسان خدا کے دین کی نصرت کے لیے درکار ہیں۔
خدا کے دین کی نصرت وہ لوگ کر سکتے ہیں جن کے اندر حدیدی کردار ہو، جن کے قول پر پورا اعتماد کیا جا سکے، جو مشکل حالات میں بھی کوئی کمزوری نہ دکھائیں، جو نفس اور شیطان کے دباؤ کے مقابلے میں سٹیل کی طرح بے لچک ثابت ہوں۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 211۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.