Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Ek aayat

Urdu · 4 min

ایک آیت: قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی صفت بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ کافروں پر سخت ہیں، یعنی "اشدّاء علی الکفار"۔ سورہ الفتح، آیت 29۔ کچھ لوگ اس کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ اہلِ اسلام کا برتاؤ غیر مسلموں سے نرمی کا نہیں، بلکہ سختی کا ہونا چاہیے۔ ان کو ہمیشہ غیر مسلموں سے کڑا سلوک کرنا چاہیے، یہ بات سراسر غلط ہے۔

رسول اللہ کے بارے میں حضرت عائشہ نے کہا کہ آپ کا اخلاق قرآن تھا، یعنی "کان خلقہ القرآن"۔ اگر اس آیت کا مطلب یہ ہو تو آپ کو اپنے معاصر غیر مسلموں سے کڑا برتاؤ کرنا چاہیے تھا، حالانکہ ایسا نہیں۔ حدیث اور سیرت کی کتابیں بتاتی ہیں کہ آپ نے ہمیشہ اپنے زمانے کے غیر مسلموں سے نرمی اور شفقت کا برتاؤ کیا، حتیٰ کہ بہت سے واقعات ہیں جبکہ کسی غیر مسلم نے آپ کے ساتھ سختی کا معاملہ کیا، اس وقت بھی آپ اس کے لیے نرمی کا پیکر بنے رہے۔ "شدید" کے لفظی معنی سخت کے ہیں، "هو شديد عليّ" کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فلاں شخص کو اپنے اثر میں لانا مجھ پر سخت دشوار ہے۔

گویا اس سے مراد کڑا یا کرخت ہونا نہیں ہے، بلکہ غیر اثر پذیر ہونا ہے۔ الحماسہ میں ایک شاعر کہتا ہے کہ جوانی کی عمر میں آدمی اگر مردانگی سے عاجز رہ جائے تو ادھیڑ عمر میں اس کو حاصل کرنا اس پر سخت دشوار ہوگا۔ إذا المرء أعيته المروءة ناشئًا فمطلبها كهلا عليه شديد. مذکورہ قرآنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان اتنے پختہ ہوتے ہیں کہ وہ غیر مسلموں کا اثر قبول نہیں کرتے، وہ مکمل طور پر بااصول زندگی گزارتے ہیں۔

وہ غیر مسلم قوم یا غیر مسلم تہذیب کے درمیان رہ کر بھی ان کا اثر نہیں لیتے۔ آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مومن کا برتاؤ نرم کے بجائے سخت ہوتا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کے درمیان اثر پذیر بن کر رہنے کے بجائے غیر اثر پذیر بن کر رہتا ہے۔ غیر مسلموں کا اثر لینے کے معاملے میں وہ پتھر کی طرح سخت ثابت ہوتا ہے۔ اس آیت کا تعلق اصلاً برتاؤ سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ ہمیشہ بااصول انداز میں زندگی گزاری جائے۔

اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 177۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.