Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Izzat-e-nafs

Urdu · 4 min

عزتِ نفس۔ عزتِ نفس اور کبرِ نفس میں اتنا کم فرق ہے کہ یہ طے کرنا تقریباً ناممکن ہے کہ کہاں عزتِ نفس کی حد ختم ہوتی ہے اور کہاں سے کبرِ نفس کی حد شروع ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں عزتِ نفس کو کوئی درجہ نہیں دیا گیا ہے۔ اکثر حالات میں عزتِ نفس دراصل کبرِ نفس ہی کا دوسرا نام ہوتا ہے۔

گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ عزتِ نفس سرے سے کوئی پسندیدہ چیز نہیں۔ عزتِ نفس کی حقیقت اکثر حالات میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ کبرِ نفس ہی کا ایک خوبصورت نام ہوتا ہے۔ اسلام میں اصل قابلِ قدر چیز عزتِ نفس نہیں، بلکہ کسرِ نفس ہے۔ اسلام میں اعلیٰ اخلاقیات کا معیار تواضع ہے: دلیل کے آگے جھک جانا، اپنی غلطی کو مان لینا، اکڑ سے مکمل طور پر خالی ہونا۔

یہ مومن کی صفات ہیں، اور ان صفات کے ساتھ عزتِ نفس کا کوئی جوڑ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عزتِ نفس کا مزاج آدمی کے لیے تواضع، اعتراف اور حلم میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ جبکہ اسلام کی اعلیٰ اخلاقی قدر یہی ہے: جب دو آدمیوں یا دو گروپ میں نزاع ہو تو نزاع بہت جلد بڑھ کر وقار کا سوال بن جاتی ہے۔ اور جب کسی مسئلے میں وقار کی صورت پیدا ہو جائے تو اپنے موقف سے ہٹنا آدمی کو بے عزتی معلوم ہونے لگتا ہے۔

چنانچہ اپنی عزت و وقار کو بچانے کے نام پر وہ اپنے موقف پر اکڑ جاتا ہے۔ اسی اکڑ یا ضد کا خوبصورت نام عزتِ نفس ہے۔ صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے کہ نزاع کو کسی بھی حال میں وقار کا سوال نہ بنایا جائے، بلکہ صلح جوئی کے ذہن کے تحت اس کو رفع کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح کے معاملات میں جھکنا ہی اسلام کا مطلوب ہے، نہ کہ ضد میں پڑ کر اپنے موقف پر اکڑ جانا۔

اور یہ کہہ کر اپنے کو فریب میں مبتلا کرنا کہ "میں اپنی عزتِ نفس کو بچانے کے لیے ایسا کر رہا ہوں"۔ ضد ایک نفسیاتی برائی ہے، جبکہ تواضع اور فروتنی ایک عظیم عبادت ہے۔ خدا ضد اور اکڑ کو ناپسند کرتا ہے، اور اس کے مقابلے میں تواضع اور فروتنی کو پسند کرتا ہے۔ اور جو لوگ حقیقی معنوں میں تواضع اور فروتنی کا ثبوت دیں، ان کے درجات کو دنیا اور آخرت میں بلند کرتا ہے۔

اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 48۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.