Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Ta'assub nahi

Urdu · 4 min

تعصب نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہت سے لوگ اسلام کے مخالف ہو گئے، اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرنے لگے۔ قرآن میں کئی جگہ اس واقعے کا ذکر آیا ہے، مگر قرآن میں اس کے مقابلے میں جو تدبیر بتائی گئی وہ یہ نہیں تھی کہ تم ان کی سازشوں کو بے نقاب کرو۔ ان کے خلاف جوابی تحریک چلاؤ۔

ان کی سازش اور عداوت کو ختم کرنے کے لیے ان سے لڑائی کرو۔ اس کے برعکس، قرآن میں رسول اور اصحاب رسول کو صرف ایک ہدایت دی گئی، اور وہ "توکل علی اللہ" تھی۔ یعنی سازشوں اور دشمنیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اللہ پر بھروسہ کرو۔ اس قسم کی باتوں سے بے نیاز ہو کر اپنی مثبت سرگرمیوں کو جاری رکھو۔

یہ ایک بے حد اہم ہدایت تھی۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ذہن کو منفی سوچ سے ہٹا کر مثبت سوچ کی طرف ڈال دیا۔ ایک لفظ میں، اس قرآنی تعلیم کا مطلب یہ تھا کہ دوسروں میں جینے کے بجائے اپنے آپ میں جیو۔ اگر آپ کے ذہن میں یہ بات بھر جائے کہ دوسرے لوگ آپ کے خلاف سازش کر رہے ہیں، تمام لوگ آپ کے دشمن ہو گئے ہیں، تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ ہر ایک پر شبہ کرنے لگیں گے، حتیٰ کہ خود اپنے فرقے کا کوئی فرد اگر کوئی رواداری کی بات کرے گا تو آپ اس کو الٹے مفہوم میں لے کر یہ سمجھیں گے کہ یہ دشمنوں کا ایجنٹ ہے۔

اور اس طرح آپ خود اپنے لوگوں کو اپنے سے دور کر کے اپنے آپ کو کمزور کر لیں گے۔ سازش یا عداوتی ذہن کا ایک نقصان یہ ہے کہ ایسے لوگ موضوعی طرز فکر، یعنی objective thinking، کو کھو دیتے ہیں۔ ان کی ساری سوچ جانبدارانہ اور متعصبانہ بن جاتی ہے۔ وہ حقیقتوں کو ویسا ہی دیکھ نہیں پاتے جیسا کہ وہ ہیں۔

ان کی مثال اس انسان کی ہو جاتی ہے جو اپنی آنکھ میں کسی خرابی کی بنا پر باغ کے صرف کانٹوں کو دیکھ سکے۔ ایسا انسان گویا ایک full blind انسان ہے۔ اس کو سارا باغ صرف کانٹوں سے بھرا ہوا دکھائی دے گا، عین اسی وقت باغ میں ہزاروں خوبصورت پھول کھلے ہوئے موجود ہوں گے، مگر وہ ان کو دیکھنے سے محروم رہے گا۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 42۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.