انس و محبت: حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن انس و محبت والا انسان ہوتا ہے۔ اس آدمی میں کوئی خیر نہیں جو نہ دوسروں سے مانوس ہوا۔ اس آدمی میں کوئی خیر نہیں جو نہ دوسروں سے مانوس ہو اور نہ دوسرے اس سے مانوس ہوں۔ لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچانے والا ہو۔
المؤمن آلف معلوف، ولا خير فيمن لا يعلف ولا يؤلف، وخير الناس أنفعهم للناس. ادب الدنیا والدین للبصری، صفحہ 237۔ انسان جب اپنی صحیح فطرت پر قائم ہو تو وہ ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ اس حدیثِ رسول میں بتایا گیا ہے۔ اس کے اندر ایسی صفات ہوتی ہیں جو لوگوں کو اس کی طرف مائل کر دیں۔
اسی طرح وہ خود دوسرے انسانوں سے الفت و محبت کے ساتھ پیش آنے والا انسان ہوتا ہے۔ یہی وہ انسان ہیں جن کے ملنے سے ایک بہتر سماج وجود میں آتا ہے۔ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے والے ہوتے ہیں، اور دوسروں سے بھی ان کو فائدے کا تجربہ ہوتا ہے۔ جو لوگ دنیا میں اس طرح جئیں، وہ خود بھی کامیاب ہوتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی کامیابی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
وہ پھول کی مانند ہوتے ہیں جو اپنے آپ میں بھی خیر ہوتا ہے اور پورے باغ کے لیے بھی خیر۔ ایسا انسان کینہ و نفرت جیسے جذبات سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے دل میں دوسروں کے لیے خیرخواہی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ وہ ہر ایک کو اپنا سمجھتا ہے۔
ہر ایک کے لیے اس کے دل میں بہترین تمنائیں ہوتی ہیں۔ جب بھی کوئی شخص اس سے ملتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ پھول سے مل رہا ہے، نہ کہ کسی کانٹے سے۔ اس کے پاس بیٹھنا الفت و محبت کے ماحول میں بیٹھنا ہوتا ہے، نہ کہ نفرت و وحشت کے ماحول میں بیٹھنا۔ ایسا آدمی جب دوسروں سے ملتا ہے تو وہ اس سے مسکرا کر ملتا ہے۔
وہ ہمیشہ دوسروں کی رعایت کرتا ہے۔ دوسروں کی خدمت کرنا اس کے لیے خوشی کا ایک تجربہ ہوتا ہے۔ دوسروں کے کام آنا اس کے لیے خود اپنی شخصیت کی تکمیل کے ہم معنی ہوتا ہے۔ دوسروں کے ساتھ اس کی خیرخواہی کا جذبہ اس وقت بھی ختم نہیں ہوتا جبکہ دوسروں کی طرف سے اس کو کوئی ناخوشگوار تجربہ پیش آئے۔
اسلام ابتعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 255۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.