Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Earaaz

Urdu · 4 min

اعراض۔ اسلام کا ایک اہم معاشرتی اصول اعراض، یعنی avoidance ہے، یعنی شکایت اور اختلاف کے موقع پر ٹکراؤ سے پرہیز کرنا۔ اشتعال کے موقع پر ردِعمل کا طریقہ اختیار نہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو مثبت رویّے پر قائم رکھنا۔ ہر مرد و عورت کا مزاج دوسرے مرد و عورت سے مختلف ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک اور دوسرے کے درمیان اور بہت سے فرق ہیں، جس کی بنا پر بار بار ایک کو دوسرے سے ناخوشگواری کا تجربہ پیش آتا ہے۔ ایک اور دوسرے کے درمیان اختلاف کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اجتماعی زندگی میں، خواہ وہ گھر کے اندر کی ہو یا گھر کے باہر کی، اس طرح کی ناپسندیدہ صورتحال کا پیش آنا بالکل فطری ہے۔ اس کو روکنا کسی حال میں ممکن نہیں۔

اب ایک طریقہ یہ ہے کہ ہر اختلاف سے ٹکراؤ کیا جائے۔ ہر ناخوشگواری سے براہِ راست مقابلہ کر کے اس کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح کی کوشش غیر فطری ہے، اس لیے کہ وہ مسئلے کو صرف بڑھانے والی ہے، وہ ہرگز اس کو گھٹانے والی نہیں۔ اسلام میں ایسے مواقع پر اعراض کی تعلیم دی گئی ہے، یعنی ناخوشگوار صورتحال کو مٹانے کے بجائے اس کو برداشت کرنا۔

اشتعال انگیزی کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس کو نظر انداز کرنا۔ اختلاف کے باوجود لوگوں کے ساتھ متحد ہو کر رہنا۔ اسلام کے مطابق یہ صرف ایک معاشرتی طریقہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عظیم ثواب بھی ہے۔ لوگوں کے درمیان اچھے طریقے سے رہنا عام حالات میں بھی ایک ثواب ہے۔

مگر جب کوئی شخص شکایت اور اختلاف کے باوجود لوگوں کے ساتھ اچھے رویّے پر قائم رہے، وہ اپنے منفی جذبات کو دبا کر مثبت روش کا ثبوت دے، تو اس کا ثواب بہت بڑھ جاتا ہے۔ خدا کے یہاں ایسے لوگوں کا شمار محسنین میں کیا جائے گا، یعنی وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی زندگی میں برتر اخلاق اور اعلیٰ انسانیت کا ثبوت دیا۔ اعراض کے بغیر اعلیٰ انسانی کردار پر قائم رہنا ممکن نہیں۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 34۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.