Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Wadah

Urdu · 4 min

وعدہ۔ اجتماعی زندگی میں باہمی معاملات کرتے ہوئے بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص سے کوئی وعدہ کرتا ہے۔ ایسا وعدہ بظاہر دو انسانوں یا دو گروہوں کے درمیان ہوتا ہے، مگر اس میں تیسرا فریق خدا ہوتا ہے، جو گواہ کی حیثیت سے لازمی طور پر اس میں موجود رہتا ہے۔ اس لیے ہر وعدہ ایک خدائی وعدہ بن جاتا ہے۔

اسی لیے مومن وعدے کے بارے میں نہایت حساس ہوتا ہے؛ اس کا یہ یقین کہ ہر وعدہ جو دو آدمیوں کے درمیان کیا جائے، وہ خدا کی نگرانی میں ہوتا ہے، اور خدا کے یہاں اس کا حساب ہوگا، یہ یقین اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ وعدے کے بارے میں حد درجہ ذمہ دار ہو۔ جب وہ کسی سے ایک وعدہ کر لے تو لازماً وہ اس کو پورا کرے۔ جس سماج میں لوگ اس صفت کے حامل ہوں کہ وہ وعدہ ضرور پورا کریں، اس سماج کا ہر فرد قابلِ پیشنگوئی کردار کا حامل بن جاتا ہے۔ ایسے سماج میں وہ خاص صفت آ جاتی ہے جو بقیہ کائنات میں وسیع پیمانے پر موجود ہے۔

اس کائنات کا ہر جز حد درجہ سخت کے ساتھ اپنا عمل کر رہا ہے۔ مثلاً سیاروں اور ستاروں کی گردش کے بارے میں پیشگی طور پر جانا جا سکتا ہے کہ وہ اگلے سو سال بعد یا ہزار سال بعد کہاں ہوں گے۔ اسی طرح پانی کے بارے میں پیشگی طور پر یہ معلوم ہے کہ وہ کتنے درجے کی حرارت پر ابلنے لگے گا۔ اسی طرح پوری کائنات قابلِ پیشنگوئی کردار کی حامل بن گئی ہے۔

جس سماج میں لوگ وعدہ پورا کرنے والے بن گئے ہوں، اس سماج میں اپنے آپ بہت سی دوسری خوبیاں پرورش پانے لگتی ہیں۔ مثلاً ایسے سماج میں لین دین کے جھگڑے نہیں ہوتے۔ ایسے سماج میں ایک دوسرے پر اعتماد کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ ایسے سماج میں ہر آدمی سکون کی حالت میں ہوتا ہے، کیونکہ اس کو یہ اندیشہ نہیں ہوتا ہے کہ اس کو دوسروں کے ساتھ وعدہ خلافی کا معاملہ پیش آئے گا۔

وعدہ پورا کرنا اعلیٰ ترین اخلاقی صفت ہے، اور ایمان آدمی کو اسی اعلیٰ ترین اخلاقی صفت کا حامل بناتا ہے۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 31۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.