← Islam ek Ta'arufIslam ek Ta'aruf
Tamheed
Urdu · 6 min
تمہید: اسلام دینِ فطرت ہے، اسلام فطرتِ انسانی کا مثنٰی ہے، اسلام انسان کے تمام فکری اور روحانی تقاضوں کی تکمیل ہے۔ اسلام سب کے خدا کی طرف سے ہے، اور وہ یکساں طور پر سب کے لیے آیا ہے۔ وہ ربّ العالمین کی پسند کا مظہر ہے، جس کو پیغمبرِ رحمت کے ذریعے انسانوں کے پاس بھیجا گیا ہے۔ خدا نے موجودہ کائنات بنائی، اور اسی نے انسان کو اس زمین پر آباد کیا۔
اس نے انسان اور بقیہ کائنات کے لیے ایک ہی دین مقرر کیا، اس فرق کے ساتھ کہ بقیہ کائنات جس دینِ خداوندی پر مجبورانہ طور پر قائم ہے، اسی دینِ خداوندی پر انسان کو اختیارانہ طور پر قائم ہونا ہے۔ درخت زمین پر سیدھا کھڑا ہوتا ہے، مگر اس کا سایہ زمین پر جھکا ہوا ہوتا ہے۔ یہ درخت کے لیے تواضع کا عمل ہے۔ اسی طرح انسان سے مطلوب ہے کہ وہ اپنی زندگی میں تواضع کا رویہ اختیار کرے۔
خلا میں بے شمار ستارے اور سیارے ہیں، سب کے سب مسلسل حرکت کر رہے ہیں، مگر ان میں ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ستارہ اور سیارہ اپنے متعین مدار کے اندر گھومتا ہے۔ یہی روش انسان کو اس طرح اختیار کرنا ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں سرگرم ہو۔ کوئی انسان دوسرے انسان کے دائرے میں داخل ہونے کی کوشش نہ کرے۔
دنیا میں یہ نظام ہے کہ درخت آکسیجن نکالتے ہیں، جو زندہ حیوانات کے کام آتی ہے، اور حیوانات کاربن ڈائی آکسائیڈ نکالتے ہیں، جس کو درخت لے لیتے ہیں۔ یہ کائنات میں خدا کا قائم کردہ نظام ہے۔ یہی طریقہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسانی سماج میں یہ ہونا چاہیے کہ ہر ایک دوسرے کے کام آئے، ہر ایک دوسرے کے لیے نفع بخش بننے کی کوشش کرے۔
پہاڑوں سے چشمے جاری ہوتے ہیں، وہ بہتے ہوئے بار بار چٹانوں سے گزرتے ہیں، مگر کوئی چشمہ کبھی چٹان کو توڑنے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ چٹان کے اطراف سے اپنا راستہ نکال کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہی طریقہ انسان کو بھی اپنی سرگرمیوں میں اختیار کرنا ہے۔ وہ مسائل سے لڑنے کی کوشش نہ کرے، وہ مسائل کو نظر انداز کرے اور مواقع کو استعمال کر کے اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ سمندر سے بھاپ اٹھتی ہے اور بادل بن کر بارش کی صورت میں زمین پر برستی ہے۔
وہ ایک ملک اور دوسرے ملک کے درمیان امتیاز نہیں کرتی۔ وہ تمام کھیتوں اور باغوں کو یکساں طور پر سیراب کرتی ہے۔ یہی معاملہ انسان کا بھی ہونا چاہیے۔ انسان کی فیض رسانی کو بھی بارش کی طرح عام ہونا چاہیے۔
اس کو اپنے ماحول میں اس طرح رہنا چاہیے کہ بارش کی مانند اس کا فیض سب کے لیے عام ہو۔ خدا نے جو دین کائنات میں تکوینی طور پر قائم کر رکھا ہے، وہی دین اسلام کی صورت میں انسان کو تشریحی طور پر دیا گیا ہے۔ بقیہ کائنات کا کامیابی کے ساتھ چلنا اس لیے ہے کہ وہ خدا کے مقرر کیے ہوئے دین کو کامل طور پر اختیار کیے ہوئے ہے۔ اسی طرح انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ بھی اسی دینِ خداوندی کو اپنا لے۔
اسی کے مطابق وہ اپنی زندگی کے معاملات کو درست کرے۔ جو لوگ ایسا کریں، وہ موجودہ دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور موت کے بعد آنے والی دوسری دنیا میں بھی۔ دونوں دنیاؤں کی کامیابیاں اور سرفرازیاں ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہیں۔ وحید الدین خان، 6 جنوری 1998، اسلام ابتعارف، صفحہ نمبر 5۔