Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq
Islam Daur-e-Jadeed ka Khaaliq

چند حوالے

Urdu · 3 min

رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے جو اسلامی انقلاب آیا، وہ سادہ معنوں میں صرف ایک مذہبی انقلاب نہ تھا، بلکہ اس نے تقریباً پوری آباد دنیا کو متاثر کیا۔ اہلِ اسلام نے عالمی سطح پر طاقتور حکومتیں قائم کیں، یہ سلسلہ 1000 سال تک جاری رہا۔ اس پوری مدت میں کہیں بھی انسانی فکر پر بندش قائم نہیں کی گئی؛ ہر جگہ تمام لوگوں کو مکمل طور پر فکری آزادی حاصل رہی۔ یہاں ہم پروفیسر آرنلڈ کی کتاب "پریچنگ آف اسلام" سے کچھ اقتباسات نقل کرتے ہیں۔

پروفیسر آرنلڈ نے اندلس کے ایک مسلمان کا لمبا بیان نقل کیا ہے، جس کا ایک حصہ یہ ہے: "یہ صحیح ہے کہ جو شخص ہمارا دین قبول کرنے کی طرف میلان ظاہر کرے، ہم اس کو گلے لگانے کے لیے تیار رہتے ہیں، مگر ہمارا قرآن ہم کو اس کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم دوسروں کے ضمیر پر جبر و تعدی کریں۔ " صفحہ 145۔ ترکوں کی مذہبی رواداری کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہوں نے یورپ ممالک کی فتح کے بعد کم از کم 200 سال تک اپنی عیسائی رعایا کے ساتھ مذہبی معاملات میں ایسی رواداری کا ثبوت دیا جس کی مثال اس زمانے میں یورپ کے دوسرے ملکوں میں مطلق نہیں ملتی۔ صفحہ 157۔

سترہویں صدی میں انطاکیہ کے بطریرک مکاریس نے ترکوں کی اس صفت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا تھا: "خدا ترکوں کی سلطنت کو ہمیشہ باخی رکھے، کیونکہ وہ اپنا جزیہ لیتے ہیں لیکن رعایا کے مذہب میں دخل اندازی نہیں کرتے، خواہ وہ نصرانی ہوں یا یہودی یا سامری۔ " صفحہ 158 تا 59۔ پروفیسر آرنلڈ نے مسلم دورِ حکومت میں فکر و خیال کی آزادی کی بہت سی مثالیں پیش کی ہیں۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ رومی سلطنت کے وہ صوبے، جن کو مسلمانوں نے تیز رفتاری کے ساتھ فتح کیا تھا، انہوں نے اچانک اپنے آپ کو ایسی رواداری کے ماحول میں پایا جو کئی صدیوں سے ان کے لیے نامعلوم بنی ہوئی تھی۔

اس قسم کی رواداری ساتویں صدی کی تاریخ میں کس قدر حیرت ناک تھی۔ So striking in the history of the seventh century.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.