قدیم زمانے میں فکر و خیال پر پابندی کی وجہ بھی وہی شرک تھا جس کا ذکر پچھلے صفحات میں آ چکا ہے۔ مشرکانہ عقائد کے تحت یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ جو شخص بادشاہ کے تخت پر بیٹھا ہوا ہو، وہ عام انسانوں سے مختلف ہوتا ہے۔ اس زمانے میں بادشاہ کو کسی نہ کسی اعتبار سے خدائی اوصاف کا مالک سمجھا جاتا تھا۔
عام انسان محض رعایا تھے، اور بادشاہ کو ان کے اوپر خدائی آقا کی حیثیت حاصل تھی۔ یہی مشرکانہ یا تو یہی مشرکانہ یا توہمات عقیدہ تھا جس نے لوگوں سے آزادی خیال کا حق چھین رکھا تھا۔ یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ جو بادشاہ کی رائے ہے، وہی صحیح رائے ہے۔ دوسرے لوگوں کو صرف بادشاہ کی رائے کی ہمنوائی کرنی ہے۔
انہیں بادشاہ کی رائے سے الگ رائے بنانے کا کوئی حق نہیں۔ یہی وہ غلط عقیدہ تھا جس نے قدیم زمانے میں آزادی فکر کا خاتمہ کر رکھا تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب اسلام کا ظہور ہوا تو اس نے اعلان کیا کہ ہر قسم کی بڑائی صرف ایک خدا کے لیے ہے۔ اس کے سوا جو انسان ہیں، سب برابر ہیں۔
سب ایک دوسرے کی طرح ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف انداز سے اس حقیقت کا اعلان کیا کہ تمام انسان بھائی بھائی ہیں۔ يعني: العباد كلهم إخوة. سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 1508۔
یہی وہ چیز ہے جس کو مذہبی اصطلاح میں توحید کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے اس حقیقت کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ اسی بنیاد پر ایک مکمل انقلاب برپا کر کے اس کو عملاً زمین پر قائم کر دیا۔ پیغمبری کے ابتدائی دور میں آپ نے اس حقیقت کا لفظی تبلیغ فرمائی تھی۔ پیغمبری کے ابتدائی دور میں آپ نے اس حقیقت کی لفظی تبلیغ فرمائی تھی۔
اس کے بعد جب عرب میں آپ کو سیاسی غلبہ حاصل ہو گیا تو آپ نے وقت کے حکمران کی حیثیت سے اس کا اعلان ان الفاظ میں فرمایا: إن الله عز وجل قد أذهب عنكم عبية الجاهلية وفخرها بالآباء مؤمن تقي وفاجر شقي أنتم بنو آدم وآدم من تراب سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 5116۔ یعنی: بے شک اللہ نے جاہلیت کے غرور اور نسلی فخر کا تم سے خاتمہ کر دیا۔ اب انسان یا تو صاحب تقویٰ مومن ہے یا گنہگار بدبخت ہے۔ تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے۔
اس طرح اسلام نے انسانوں کے درمیان نسل اور رنگ اور عہدہ جیسی بنیادوں پر تفریق کو ختم کر دیا اور سر نو اخلاقی بنیاد پر ان کی درجہ بندی قائم کی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.